بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 ربیع الاول 1442ھ- 20 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

خصیتین میں خرابی کی وجہ سے ڈاکٹر کی ہدایت پر کتے کے خصیتین لگانے کا حکم


سوال

میری شادی کو دس سال کا عرصہ ہو چکا ہے، مگر اولاد نہیں ہوئی، ہندوستان کے ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ میرے خصیتین میں خرابی ہے، اس کا علاج یہ ہے کہ ان خصیتین کو نکال کر کتے کے خصیے لگا دیں تو اولاد ہو گی۔ کیا کتے کے خصیتین لگا سکتا ہوں؟

جواب

کسی انسان کے عضو کو جانور کے عضو سے بدلنے کے لیے شرط یہ ہے کہ جانور حلال (ماکول اللحم) ہو اور شرعی طریقہ پر ذبح کیا گیا ہو، غیر  مأکول اللحم جانور  یا غیر شرعی طریقہ سے ذبح کیے ہوئے جانور کے اعضاء انسان کو لگانا جائز نہیں ہے، البتہ اگر جان کا خطرہ ہو یا عضو کے ضائع ہونے کا قوی خطرہ ہو تو مجبورًا اس کی گنجائش ہوگی۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں کتے کے خصیتین لگانا آپ کے لیے جائز نہیں ہے۔

اولاد اللہ تعالیٰ کے نعمت ہے، اور اللہ جل شانہ اپنی حکمتِ بالغہ کے تحت اس کی تقسیم فرماتے ہیں، اسی ذات کی طرف رجوع کرنا چاہیے، اولاد کے حصول کے لیے جائز تدابیر اختیار کرکے صدقِ دل سے دعائیں کرتے رہیے، جو بڑھاپے میں حضرت زکریا علیہ السلام کو بانجھ بیوی سے بچہ دے سکتا ہے، وہ کسی کو بھی اولاد دے سکتا ہے۔

الفتاوى الهندية (5/ 354):

وقال محمد - رحمه الله تعالى - ولا بأس بالتداوي بالعظم إذا كان عظم شاة أو بقرة أو بعير أو فرس أو غيره من الدواب إلا عظم الخنزير والآدمي فإنه يكره التداوي بهما فقد جوز التداوي بعظم ما سوى الخنزير والآدمي من الحيوانات مطلقا من غير فصل بينما إذا كان الحيوان ذكيا أو ميتا وبينما إذا كان العظم رطبا أو يابسا وما ذكر من الجواب يجري على إطلاقه إذا كان الحيوان ذكيا لأن عظمه طاهر رطبا كان أو يابسا يجوز الانتفاع به جميع أنواع الانتفاعات رطبا كان أو يابسا فيجوز التداوي به على كل حال وأما إذا كان الحيوان ميتا فإنما يجوز الانتفاع بعظمه إذا كان يابسا ولا يجوز الانتفاع إذا كان رطبا وأما عظم الكلب فيجوز التداوي به هكذا قال مشايخنا وقال الحسن بن زياد لا يجوز التداوي به كذا في الذخيرة.

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144109200539

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں