بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 صفر 1442ھ- 26 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

خلع اور وعدہ خلع خلع کا حکم


سوال

ایک شخص جرگہ کے سامنے وعدہ کرے کہ میں فلاں تاریخ تک بیوی سے اتنی رقم لے کر اس کو آزاد کردوں گا، لیکن اب وہ شخص وعدہ پورا نہیں کررہا، کیا اس کے وعدہ کو خلع تصور کرکے عورت آزاد ہوسکتی ہے یا نہیں ؟

جواب

’’میں فلاں تاریخ تک بیوی سے اتنی رقم لے کر اس کو آزاد کردوں گا‘‘   مذکورہ جملہ سے نہ طلاق واقع ہو گی اور نہ ہی خلع واقع ہوگی۔

تاہم مذکورہ شخص نے اگر جرگے کے سامنے یہ وعدہ کیا ہے تو اسے اپنا وعدہ پورا کرنا چاہیے، اس شخص کو سمجھانا چاہیے کہ وعدہ خلافی اخلاقی جرم اور گناہ ہے، وعدہ کرتے وقت ہی وعدہ خلافی کی نیت رکھنا یا وعدہ خلافی کی عادت بنالینا نفاق کی علامات میں سے ہے۔ پھر بھی وہ بیوی کو آزاد نہیں کرتا تو یہ مسئلہ جرگے کے سامنے دوبارہ پیش کرکے وہیں حل کروالیا جائے۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (3/ 145):
"وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلاتقع الفرقة، ولايستحق العوض بدون القبول بخلاف النوع الأول، فإنه إذا قال: خالعتك ولم يذكر العوض ونوى الطلاق فإنه يقع الطلاق عليها، سواء قبلت أو لم تقبل؛ لأن ذلك طلاق بغير عوض فلايفتقر إلى القبول، وحضرة السلطان ليست بشرط لجواز الخلع عند عامة العلماء؛ فيجوز عند غير السلطان، وروي عن الحسن وابن سيرين أنه لايجوز إلا عند السلطان، والصحيح قول العامة؛ لما روي أن عمر وعثمان وعبد الله بن عمر - رضي الله عنهم - جوزوا الخلع بدون السلطان، ولأن النكاح جائز عند غير السلطان، فكذا الخلع". فقط و الله أعلم


فتوی نمبر : 144108200721

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں