بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 صفر 1443ھ 28 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

خفیہ نکاح کرنے کے بعد ختم کرنے کا حکم


سوال

 ایک لڑکی اور لڑکے نے  چھپ کر نکاح شرعی کیا ، اور  ایک سال تک جنسی تعلق قائم رکھا،   اب سوال یہ ہے کہ بلا کسی وجہ کے وہ تعلق توڑ سکتے ہیں ؟ کیا یہ دھوکا دہی نہیں ہو گی گھر والوں سے، اور اس کا اثر آئندہ کی  زندگی پر پڑے گا یا نہیں ؟  جب کہ ان کے  رشتے  کی امید دو تین سالوں میں بڑوں کی رضامندی سے ممکن ہے!

جواب

واضح رہے کہ شریعتِ مطہرہ نے لڑکی اور لڑکے دونوں اورخصوصاً لڑکی  کی حیا، اخلاق، معاشرت کا خیال رکھتے ہوئے  ولی (والدین) کے  ذریعے  نکاح کا نظام رکھا ہے کہ نکاح ولی کے ذریعے کیا جائے، یہی شرعاً، اخلاقاً اور معاشرۃً  پسندیدہ طریقہ ہے،  لیکن اگر کوئی نادان لڑکی یا لڑکا جو کہ عاقل بالغ ہیں  خود ہی  والدین کو لاعلم رکھ کر خفیہ طور پر شرعی گواہوں کی موجودگی میں  نکاح کریں تو نکاح ہوجائے گا، دونوں میاں بیوی بن جائیں گے، لیکن یہ نکاح ازروئے شرع ناپسندیدہ طریقہ پر ہوا ہے۔ 

بصورتِ مسئولہ  چھپ کر خفیہ طور پر مذکورہ لڑکے اور لڑکی کو نکاح نہیں کرنا چاہیے تھا، تاہم اب شرعی طور پر نکاح ہوجانے کے بعد بلاوجہ مذکورہ نکاح ختم نہیں کرنا چاہیے، شریعتِ  مطہرہ نے نکاح ہوجانے کے بعد طلاق کو پسند نہیں کیا ہے، لہذا مذکورہ دونوں میاں بیوی کو چاہیے کہ اوّلًا  صدقِ دل سے اپنے فعل پر اللہ تعالیٰ سے معافی مانگ  لیں  اور اس کے بعد حکمت ومصلحت سے اپنے بڑوں کو راضی کرکے مذکورہ رشتہ کو برقرار رکھیں، اور آگے کی زندگی اسلامی تعلیمات کے موافق گزار  لیں تو ان شاء اللہ،  اللہ تعالیٰ بھی معاون ومددگار ہوں۔

تحفۃ الاحوذی شرح سنن ترمذی میں ہے:

"قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَعْلِنُوا هَذَا النِّكَاحَ، وَاجْعَلُوهُ فِي المَسَاجِدِ، وَاضْرِبُوا عَلَيْهِ بِالدُّفُوفِ».

قَوْلُهُ: (أَعْلِنُوا هَذَا النِّكَاحَ) أَيْ بِالْبَيِّنَةِ فَالْأَمْرُ لِلْوُجُوبِ أَوْ بِالْإِظْهَارِ وَالِاشْتِهَارِ فَالْأَمْرُ لِلِاسْتِحْبَابِ كَمَا فِي قَوْلِهِ (وَاجْعَلُوهُ فِي الْمَسَاجِدِ) وَهُوَ إِمَّا لِأَنَّهُ أَدْعَى لِلْإِعْلَانِ أَوْ لِحُصُولِ بَرَكَةِ الْمَكَانِ (وَاضْرِبُوا عَلَيْهِ) أَيْ عَلَى النِّكَاحِ (بِالدُّفُوفِ) لَكِنْ خَارِجَ الْمَسْجِدِ".

(باب ماجاءفى اعلان النكاح، ج:4، ص:174، ط:دارالكتب العلمية)

مصنف ابن أبي شيبة  میں ہے:

"عن هشام، قال: كان أبي يقول: «لا يصلح نكاح السر»".

(ماقالوا في اعلان النكاح، ج:3، ص:495، ط:مكتبة الرشد.رياض)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144212200485

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں