بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

خود رو گھاس کو جمع کر کے بیچنے کاحکم


سوال

 میرا  پشین میں سیب کا باغ ہے، موسم خزاں میں سیب کاٹنے کے بعد درختوں سے زمین پر گرنے والے پتے اور درختوں کے نیچے خودرو گھاس جسکو پشتو میں "وڈ" کہاجاتا اور باقاعدہ مزدور ان کی حفاظت بھی کرتے ہیں، بعد میں خانہ بدوشوں کو قیمت پر فروخت کرتے ہیں ۔کیا ان سوکھے پتوں اور خودرو گھاس کو فروخت کرنا جائز ہے؟ جبکہ ہمارے مقامی علماء ان کو ناجائز اور حرام کہتے ہیں، ان کی دلیل یہ ہے کہ گھاس آگ اور پانی ان تین چیزوں میں سب انسان شریک ہیں اور ان کا بیچنا جائز نہیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں سیب کے باغ کے خود رو گھاس اور سوکھے پتے جن کو مزدور جمع کرتے اور حفاظت سے اپنے قبضے میں رکھ کر بیچتے ہیں یہ بیع درست ہے اور مذکورہ حدیث  جس میں پانی ،آگ اور چارے میں تمام مسلمان مشترک قرار دیے گئے ہیں  اس سے مراد یہ ہے کہ ہر شخص ان اشیاء سے استفادہ کر سکتا ہے، البتہ اگر  کسی نے ان اشیاء کو اپنے قبضہ میں لے لیا تو وہ اس کی ملکیت ہو جائے گی اور پھر ان چیزوں کو وہ آگے بھی فروخت کر سکتا ہے۔

سنن ابن ماجہ کی حدیث ہے :

"قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " المسلمون شركاء في ثلاث: ‌في ‌الماء، ‌والكلإ، والنار، وثمنه حرام."

(كتاب الرهون،باب المسلمون شركاء في ثلاث،ج2،ص826،رقم:2472،ط:دار إحياء الكتب العربية)

عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری میں ہے :

"......بقوله صلى الله عليه وسلم: (المسلمون ‌شركاء ‌في ‌الثلاث: الماء والكلأ والنار) ، رواه ابن ماجه من حديث ابن عباس، ورواه الطبراني من حديث عبد الله بن عمر، ورواه أبو داود عن رجل من الصحابة وأحمد في (مسنده) وابن أبي شيبة في (مصنفه) والمراد شركة إباحة لا شركة ملك، فمن سبق إلى أخذ شيء منه في وعاء أو غيره وأحرزه فهو أحق به، وهو ملكه دون سواه، لكنه لا يمنع من يخاف على نفسه من العطش أو مركبه، فإن منعه يقاتله بلا سلاح، بخلاف الماء الثاني فإنه يقاتله فيه بالسلاح."

(كتاب المساقاة،باب في الشرب،ج12،ص190،ط:دار الفكر)

 فتح القدیر میں ہے :

"أما إذا أحرز الماء بالاستقاء في آنية والكلأ بقطعه جاز حينئذ بيعه؛ لأنه بذلك ملكه."

(‌‌كتاب البيوع،باب البيع الفاسد،ج6،ص418،ط:دار الفكر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144412101270

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں