بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 ذو الحجة 1443ھ 03 جولائی 2022 ء

دارالافتاء

 

خود کشی کرنے والے کی بخشش ہوگی یا نہیں؟


سوال

میری سترہ سالہ بہن نے پندرہ رمضان کو روزے کی حالت خود کشی کی ہے، کیا اس کی بخشش ہو گی؟

جواب

ہر انسان کی روح اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے پاس امانت ہوتی ہے  جس میں خیانت کرنے کا حق کسی کو بھی حاصل نہیں ،اس وجہ سے خودکشی کرنا (یعنی اپنے آپ کو خود ہی مارنا) اسلام میں حرام ہے اور   گناہ کبیرہ (بڑا  گناہ) ہے،  تاہم اگر کوئی شخص خودکشی کو حلال اور جائز  سمجھ کر  نہ کرے، بلکہ مصائب اور پریشانیوں کی وجہ  سےخودکشی کرلے تو وہ دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوتا،  جس طرح دوسرے گناہ گار مسلمان اپنی سزا مکمل کرکے اللہ کے فضل وکرم اور اس کی رحمت سے جنت میں جائیں گے، اسی طرح خودکشی کرنے والے  کا بھی یہی حکم ہے۔

  خودکشی کرنے والے کی سزا کے  بارے میں مذکور ہےكہ ایسے شخص کو اسى طرح كى سزا دى جائےگى جس طرح اس نے اپنے آپ كو قتل كيا ہو گا، جیسے کہ حدیث شریف میں خود کشی کی مختلف صورتوں کو ذکر کرتے ہوئے مذکور  ہے:

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپﷺ  نے فرمايا: جس نے اپنے آپ كو پہاڑ سے گرا كر قتل كيا تو وہ جہنم كى آگ ميں ہميشہ كے ليے گرتا رہے گا، اور جس نے زہر پي كر اپنے آپ كو قتل كيا تو جہنم كى آگ ميں زہر ہاتھ ميں پكڑ كر اسے ہميشہ پيتا رہے گا، اور جس نے كسى لوہے كے ہتھيار كے ساتھ اپنے آپ كو قتل كيا تو وہ ہتھيار اس كے ہاتھ ميں ہو گا اور ہميشہ وہ اسے جہنم كى آگ ميں اپنے پيٹ ميں مارتا رہے گا۔‘‘

حدیث کاحاصل یہ ہے کہ اس دنیا میں جو شخص جس چیز کے ذریعہ خود کشی کرے گا آخرت میں اس کو ہمیشہ کے لیے اسی چیز کے عذاب میں مبتلا کیا جائے گا ۔  یہاں " ہمیشہ " سے مراد یہ ہے کہ جو لوگ خود کشی کو حلال جان کر ارتکاب کریں گے وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے عذاب میں مبتلا کیے جائیں گے ، یا پھر " ہمیشہ ہمیشہ " سے مراد یہ ہے کہ خود کشی کرنے والے  مدت دراز تک عذاب میں مبتلا رہیں گے۔

لہذا اگر کوئی شخص خود کشی کو حلال اورجائزسمجھ کر کرتاہے تب تو  ہمیشہ اس  کی یہ سزا ہوگی، اور اگر کوئی شخص مذکورہ گناہ کوجائزسمجھ کر نہیں کرتا تو امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو اپنے فضل سے  جب چاہیں  معاف کرکے جنت میں داخل کردیں۔

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح میں ہے:

"وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من ‌تردى من جبل فقتل نفسه ; فهو في نار جهنم يتردى فيها خالدا مخلدا فيها أبدا، ومن تحسى سما فقتل نفسه ; فسمه في يده يتحساه في نار جهنم خالدا مخلدا فيها أبدا، ومن قتل نفسه بحديدة، فحديدته في يده يتوجأ بها في بطنه في نار جهنم خالدا مخلدا فيها أبدا ". متفق عليه

قال الطيبي رحمه الله: والظاهر أن المراد من هؤلاء الذين فعلوا ذلك مستحلين له وإن أريد منه العموم، فالمراد من الخلود والتأبيد المكث الطويل المشترك بين دوام الانقطاع له، واستمرار مديد ينقطع بعد حين بعيد لاستعمالهما في المعنيين، فيقال: وقف وقفا مخلدا مخلدا مؤبدا، وأدخل فلان حبس الأبد، والاشتراك والمجاز خلاف الأصل فيجب جعلهما للقدر المشترك بينهما للتوفيق بينه وبين ما ذكرنا من الدلائل."

(كتاب القصاص،6/ 2262،ط:دار الفكر)

فتاوی شامی میں ہے:

"(‌من ‌قتل ‌نفسه) ولو (عمدا يغسل ويصلى عليه) به يفتى وإن كان أعظم وزرا من قاتل غيره. ورجح الكمال قول الثاني بما في مسلم «أنه - عليه الصلاة والسلام - أتي برجل قتل نفسه فلم يصل عليه. 

(قوله : به يفتى) لأنه فاسق غير ساع في الأرض بالفساد، وإن كان باغيا على نفسه كسائر فساق المسلمين زيلعي (قوله: ورجح الكمال قول الثاني إلخ) أي قول أبي يوسف: إنه يغسل، ولا يصلى عليه إسماعيل عن خزانة الفتاوى. وفي القهستاني والكفاية وغيرهما عن الإمام السعدي: الأصح عندي أنهلا يصلى عليه لأنه لا توبة له. قال في البحر: فقد اختلف التصحيح، لكن تأيد الثاني بالحديث. اهـ.

أقول: قد يقال: لا دلالة في الحديث على ذلك لأنه ليس فيه سوى «أنه - عليه الصلاة والسلام - لم يصل عليه» فالظاهر أنه امتنع زجرا لغيره عن مثل هذا الفعل كما امتنع عن الصلاة على المديون، ولا يلزم من ذلك عدم صلاة أحد عليه من الصحابة؛ إذ لا مساواة بين صلاته وصلاة غيره. قال تعالى {إن صلاتك سكن لهم} [التوبة: 103] ثم رأيت في شرح المنية بحثا كذلك، وأيضا فالتعليل بأنه لا توبة له مشكل على قواعد أهل السنة والجماعة لإطلاق النصوص في قبول توبة العاصي، بل التوبة من الكفر مقبولة قطعا وهو أعظم وزرا، ولعل المراد ما إذا تاب حالة اليأس كما إذا فعل بنفسهما لا يعيش معه عادة كجرح مزهق في ساعته وإلقاء في بحر أو نار فتاب، أما لو جرح نفسه، وبقي حيا أياما مثلا ثم تاب ومات فينبغي الجزم بقبول توبته ولو كان مستحلا لذلك الفعل؛ إذ التوبة من الكفر حينئذ مقبولة فضلا عن المعصية، بل تقدم الخلاف في قبول توبة العاصي حالة اليأس."

(باب صلاة الجنازة،2/ 211،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144309101174

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں