بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو الحجة 1445ھ 20 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

خود کو ہاتھ سے فارغ کرنا


سوال

جب میں رات کو سوتا ہو تو مجھے ایک یا دو رات بعد ضرور احتلام ہوتا ہے، لیکن اگر میں اسی وجہ سے دن میں خود کو ہاتھ سے فارغ کرو ں تو پھر 2 یا 3 دن کے بجائے 4 یا 5 دن کے بعد احتلام ہوتا ہے، اور صبح سردی میں جب میں غسل کرتا ہوں تو بیمار پڑ جاتا ہوں ۔کیا میرے لیے دن میں خود کو ہاتھ سے فارغ کرنا اور غسل کرنا جائز ہے؟

جواب

خود کو ہاتھ سے فارغ کرنا (مشت زنی) کسی حالت میں بھی جائز نہیں ہے؛ مرض کی وجہ سے یا غلبہ شہوت کی وجہ سے یا جسم ہلکا کرنے کے لیے  بھی مشت زنی ناجائز ہے۔  اور حدیث میں اس عمل کے مرتکب پر لعنت کی گئی ہے۔اس لئے ایسے فعل کو فورا ترک کردیں اور کسی اچھے ڈاکٹر سے  کثرت احتلام کا علاج کروائیں ۔

دلائل اور تفصیل کے لیے درج ذیل لنک ملاحظہ کیجیے:

مشت زنی گناہ ہے 

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144205200971

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں