بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 محرم 1446ھ 16 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

خود کشی کرتے وقت کلمہ پڑھنے کا حکم


سوال

اگر کو ئی شخص خودکشی کرتے ہوۓ کلمہ پڑھے تو کیا حکمِ شرع ہو گا؟

جواب

واضح رہے کہ ہر انسان کی روح اللہ تعالی کی طرف سے اس کے پاس امانت ہوتی ہے ،جس میں خیانت کرنے کاحق کسی کو بھی حاصل نہیں ہے،اسی وجہ سے خود کشی کرنا (یعنی اپنے آپ کو  خود مارنا)اللہ تعالی کی امانت میں خیانت کرنا ہے ،لہذا    اس وجہ سے یہ اسلام میں حرام ہے اور خود کشی کرنا بہت بڑاگناہ ہے۔

 چنانچہ خود کشی کرنے والے کی سزا کے بارے میں       مذکور     ہے کہ ایسے شخص کو اسی طرح سزادی جا ئے گی جس طرح اس نے اپنے آپ کو قتل کیا ہوگا،حدیث شریف میں خود کشی کرنے کی مختلف صورتوں کو ذکر کرتے ہوئے مذکورہ ہے:

"حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ آپﷺ نے فرمایا:جس نے اپنے آپ کو پہاڑسے گرا کر قتل کیاتو  جہنم کی آگ میں ہمیشہ کے لیے گرتا رہے گا،جس نے زہر پی کر اپنے آپ کو قتل کیاتو جہنم میں زہر ہاتھ میں لے کر پیتا رہے گا،اور جس نے کسی لوہے سے اپنے آپ کو قتل کیاتو وہ لوہا ہاتھ میں لے کر ہمیشہ  کے لئے جہنم کی آگ میں اپنے پیٹ میں مارتا رہے گا۔"

لہذا اگر کوئی شخص خود کشی کو حلال اور مباح سمجھ کر کرتاہے تب تو  ہمیشہ اس کی یہ سزاہوگی ،اور  اگر کوئی اس کو حلال اور جائز سمجھ کرنہ کرے بلکہ دنیا کے مصائب اور پر یشانیوں کی وجہ سے خود کشی کر لے تو وہ دائر ہ اسلام سے خارج نہیں ہوتا خواہ خود کشی کے وقت کلمہ پڑھا ہو یا نہ پڑھا ہو،اور جس طرح    دوسرے   گناہ گار مسلمان  اپنی سزا مکمل کرکے اللہ   کے    فضل و کرم اور اس کی رحمت سے جنت میں  جائیں گے ،اسی طرح  خود کشی کرنے والے کا بھی یہی حکم ہوگا،اور اللہ تعالی جب چاہے اس کو اپنے فضل سے معاف کرکے جنت میں داخل کردے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(من قتل نفسه) ولو (عمدا يغسل ويصلى عليه) به يفتى وإن كان أعظم وزرا من قاتل غيره."

(باب صلاۃ الجنازۃ،211/2 ،ط،دار الفکر)

مرقاۃ المصابیح میں ہے:

"وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " «‌من ‌تردى من جبل فقتل نفسه ; فهو في نار جهنم يتردى فيها خالدا مخلدا فيها أبدا، ومن تحسى سما فقتل نفسه ; فسمه في يده يتحساه في نار جهنم خالدا مخلدا فيها أبدا، ومن قتل نفسه بحديدة، فحديدته في يده يتوجأ بها في بطنه في نار جهنم خالدا مخلدا فيها أبدا،

قال الطيبي رحمه الله: والظاهر أن المراد من هؤلاء الذين فعلوا ذلك مستحلين له وإن أريد منه العموم، فالمراد من الخلود والتأبيد المكث الطويل المشترك بين دوام الانقطاع له، واستمرار مديد ينقطع بعد حين بعيد لاستعمالهما في المعنيين، فيقال: وقف وقفا مخلدا مخلدا مؤبدا، وأدخل فلان حبس الأبد، والاشتراك والمجاز خلاف الأصل فيجب جعلهما للقدر المشترك بينهما للتوفيق بينه وبين ما ذكرنا من الدلائل."

(کتاب القصاص،2262/2،رقم،3453،ط،دار الفکر)

شرح النووی علی مسلم میں ہے:

"‌واعلم ‌أن ‌مذهب أهل السنة وما عليه أهل الحق من السلف والخلف أن من مات موحدا دخل الجنة قطعا على كل حال فإن كان سالما من المعاصي كالصغير والمجنون والذي اتصل جنونه بالبلوغ والتائب توبة صحيحة من الشرك أو غيره من المعاصي إذا لم يحدث معصية بعد توبته والموفق الذي لم يبتل بمعصية أصلا فكل هذا الصنف يدخلون الجنة ولا يدخلون النار أصلا لكنهم يردونها على الخلاف المعروف في الورود والصحيح أن المراد به المرور على الصراط وهو منصوب على ظهر جهنم أعاذنا الله منها ومن سائر المكروه وأما من كانت له معصية كبيرة ومات من غير توبة فهو في مشيئة الله تعالى فإن شاء عفا عنه وأدخله الجنة أولا وجعله كالقسم الأول وإن شاء عذبه القدر الذي يريده سبحانه وتعالى ثم يدخله الجنة فلا يخلد في النار أحد مات على التوحيد ولو عمل من المعاصي ما عمل كما أنه لا يدخل الجنة أحد مات على الكفر ولو عمل من أعمال البر ما عمل."

(باب الدلیل علی ان من مات علی التوحید دخل الجنۃ،217/1،ط،بیروت)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144508102222

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں