بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ذو الحجة 1445ھ 23 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

خواتین کا نوکری کرنا


سوال

کیافرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلےکےبارےمیں کہ موجودہ دورمیں لڑکیوں  کے لیے اسکولوں وغیرہ میں نوکری کرنا جائز ہے یا نہیں؟  اوراگرجائزہےتوکن کن صورتوں میں ؟

جواب

جس خاتون کاباپ ، بھائی، شوہروغیرہ موجود ہوں تو اس خاتون کی تمام تر ضروریات پوری کرنا ان کے ذمہ ہے،  ایسی عورت کے لیے کسی جگہ نوکری اختیارکرنادرست نہیں ہے، لیکن اگرکوئی خاتون ایسی ہےکہ اس کی بنیادی ضروریات کا کوئی بندوبست نہ ہو، کوئی اورکمانےوالا نہ ہو توباپردہ رہتےہوئےغیرمخلوط ماحول میں حسبِ ضرورت نوکری کرنے کی گنجائش ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143101200404

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں