بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

خواتین کے کپڑے درزی سے سلوانا


سوال

درزی سے خواتین کے کپڑے سلوانے کا کیا حکم ہے؟

کیا اس متعلق احتیاط کرنی چاہیے یا یہ دین میں غلو کے ضمن میں آۓ گا؟

جواب

مرد درزی نامحرم عورتوں کے کپڑوں کی سلائی کرسکتا ہے بشرطیکہ ذہنی کدورت یا قلبی فساد کا اندیشہ نہ ہو، اگر کسی ایسے فتنے کا خوف ہو تو یہ دل و دماغ کا گناہ ہوگا، ایسی صورت میں اجتناب کرنا چاہیے۔ اگر کوئی احتیاط کے پیشِ نظر اپنی خواتین کے کپڑے مرد درزی سے نہیں سلاتا تو یہ دین میں غلو نہیں ہے، تاہم اسے ناجائز کہنا یا سمجھنا دین میں غلو ہوگا۔

واضح رہے کہ سلائی کے لیے مرد درزی کا عورتوں کے جسم کا ناپ  جسم سے لینا بالکل ناجائز ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144111201588

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں