بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 شوال 1445ھ 24 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

خاتون کے لئے بغیرمحرم کے اکیلے عمرے کے لئے جانے کا حکم


سوال

کیا عورت اکیلی عمرہ کیلئے سفر کرسکتی ہے؟

جواب

واضح رہے کہ  عورتوں کے لیے سفرشرعی کی مسافت (48 میل) یا اس سے زیادہ اکیلے یعنی  بغیر محرم کے سفر کرنا جائز نہیں ہے، خواہ عورت جوان ہو یا بوڑھی، تنہا ہو یا اس کے ساتھ دیگر عورتیں ہوں، عمرے کا سفر ہو یا کوئی اور سفر، کسی بھی حالت میں  محرم کے بغیر جانا جائز نہیں، جیساکہ درجِ ذیل حدیث شریف میں ہے:

"عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم:لا يحل لامرأة، تؤمن بالله واليوم الآخر، أن تسافر ‌مسيرة ‌يوم وليلة ليس معها حرمة".

(بخاری شریف، ابواب تقصیر الصلاۃ، ج:1، ص:369، دار ابن کثیر )

ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: اللہ تعالی اور آخرت پر ایمان رکھنے والی کسی عورت کے لیے حلال نہیں کہ وہ دن و رات کا سفر بغیر محرم کے کرے۔"

"عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:لا يخلون رجل بامرأة إلا مع ذي محرم، فقام رجل فقال: يا رسول الله، امرأتي ‌خرجت ‌حاجة، واكتتبت في غزوة كذا كذا، قال: ارجع فحج مع امرأتك".

(بخاری شریف ،باب لا یخلون رجل بامراۃ، ج:5، ص:2005، دارابن کثیر)

"ترجمہ:حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کوئی مرد کسی عورت سے تنہائی میں نہ ملے اور کوئی عورت سفر نہ کرے، مگر اس حال میں کہ اس کے ساتھ اس کا محرم ہو، تو ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میرا نام فلاں غزوے (جہادی لشکر) میں لکھا گیا ہے، اور میری بیوی حج کے لیے نکل چکی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب تم اپنی بیوی کے ساتھ حج کرو۔"

لہذا صورت ِ مسئولہ میں عورت کے لیے محرم کے بغیر اکیلے عمرہ پر جانا شرعاً جائز نہیں ،جب تک محرم کا انتظام نہیں  ہوتا اللہ تعالی سے دعا کرتی رہے اور درود شریف کثرت کے ساتھ پڑھے ،اوراس طلب وشوق پر اللہ تعالی سے بھرپور اجر کی امید رکھے ۔

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"(ومنها المحرم للمرأة) شابة كانت أو عجوزا  إذا كانت بينها وبين مكة مسيرة ثلاثة أيام هكذا في المحيط، وإن كان أقل من ذلك حجت بغير محرم كذا في البدائع والمحرم الزوج، ومن لا يجوز مناكحتها على التأبيد بقرابة أو رضاع أو مصاهرة كذا في الخلاصة ويشترط أن يكون مأمونا عاقلا بالغا حرا كان أو عبدا كافرا كان أو مسلما هكذا في فتاوى قاضي خان والمجوسي إذا كان يعتقد إباحة مناكحتها لا يسافر معها كذا في محيط السرخسي والمراهق كالبالغ وعبد المرأة ليس بمحرم لها كذا في الجوهرة النيرة ولا عبرة للصبي الذي لا يحتلم والمجنون الذي لا يفيق كذا في محيط السرخسي وتجب عليها النفقة والراحلة في مالها للمحرم ليحج بها، وعند وجود المحرم كان عليها أن تحج حجة الإسلام، وإن لم يأذن لها زوجها، وفي النافلة لا تخرج بغير إذن الزوج، وإن لم يكن لها محرم لا يجب عليها أن تتزوج للحج كذا في فتاوى قاضي خان ثم تكلموا أن أمن الطريق وسلامة البدن - على قول أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - ووجود المحرم للمرأة شرط لوجوب الحج أم لأدائه، بعضهم جعلوها شرطا للوجوب وبعضهم شرطا للأداء، وهو الصحيح وثمرة الخلاف فيما إذا مات قبل الحج فعلى قول الأولين لا تلزمه الوصية وعلى قول الآخرين تلزمه كذا في النهاية".

(کتاب المناسک ،ج:1، ص:218، دارالفکر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144508100168

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں