بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 صفر 1442ھ- 26 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

ختم قرآن کے کھانے کا حکم


سوال

ختم قرآن کا کھانا کیسا ہے؟

جواب

 اگر ختم قرآن کسی مکان میں برکت یا کسی بیمار کی صحت کے لیے ہے تو یہ جائز ہے اور اس کے بعد کھانا کھلانے اور کھانے میں بھی کوئی حرج نہیں،  نیز  تراویح میں قرآنِ پاک ختم کرنے کے بعد اگر لوگوں سے چندہ کیے بغیر کوئی ایک یا چند لوگ اپنی خوشی سے کھانے کا اہتمام کرلیں اور اسے لازم نہ سمجھا جائے اور مسجد کے آداب کا بھی خیال ملحوظ رہے تو ختمِ قرآن پر کھانا کھلانا اور کھانا جائز ہے۔

لیکن اگر ختم قرآن کسی میت کے ایصالِ ثواب کے لیے ہو تو کسی قسم کی قیود اور وقت کی تخصیص اور کسی خاص اہتمام کے بغیر اپنے مخلص احباب جمع ہوجائیں اور قرآن کریم ختم کرکے میت کو اس کا ثواب بخش دیں تو یہ جائز بلکہ باعث ثواب ہے، البتہ ایصال ثواب کے لیے قرآن خوانی کے بعد کھانا کھلانا لازمی سمجھا جائے، یا بطورِ اجرت ہو تو یہ جائز نہیں ہوگا، اور بطورِ اجرت نہ ہو  لیکن عرف ہو تو کھانا کھلانے میں ایک گونہ اجرت ہونے کا شائبہ پایا جاتا ہے؛ اس لیے اس سے اجتناب کیا جائے۔

حاشية رد المحتار على الدر المختار (2/ 240):
"وفي البزازية: ويكره اتخاذ الطعام في اليوم الأول والثالث وبعد الأسبوع ونقل الطعام إلى القبر في المواسم واتخاذ الدعوة لقراءة القرآن وجمع الصلحاء والقراء للختم أو لقراءة سورة الأنعام أو الإخلاص، والحاصل أن اتخاذ الطعام عند قراءة القرآن لأجل الأكل يكره".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 56):
"فمن جملة كلامه: قال تاج الشريعة في شرح الهداية: إن القرآن بالأجرة لايستحق الثواب لا للميت ولا للقارئ. وقال العيني في شرح الهداية: ويمنع القارئ للدنيا، والآخذ والمعطي آثمان. فالحاصل أن ما شاع في زماننا من قراءة الأجزاء بالأجرة لايجوز؛ لأن فيه الأمر بالقراءة وإعطاء الثواب للآمر والقراءة لأجل المال؛ فإذا لم يكن للقارئ ثواب لعدم النية الصحيحة فأين يصل الثواب إلى المستأجر! ولولا الأجرة ما قرأ أحد لأحد في هذا الزمان، بل جعلوا القرآن العظيم مكسباً ووسيلةً إلى جمع الدنيا - إنا لله وإنا إليه راجعون- اهـ". فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144110201814

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں