بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 ربیع الاول 1442ھ- 21 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

خطیب کا تلوار تھام کرخطبہ دینےکا حکم


سوال

تلوار تھام کر خطبہ جمعہ پڑھنا کیسا ہے؟

جواب

واضح رہےحضوراکرم ﷺ سےتلوار کےساتھ خطبہ دینا ثابت نہیں ہے، تاہم ابو داؤد شریف کی روایت  میں لاٹھی اور نیزہ کے ساتھ  خطبہ دینا ثابت ہے۔

بصورتِ مسئولہ جو علاقے مسلمانوں نے بذریعۂ جنگ فتح کیے ہیں وہاں خطیب، اسلام کی عزت اور شان کو ظاہر کرنے کےلیے تلوار کےساتھ خطبہ دےسکتا ہے،اور جو علاقہ صلحاً فتح کیےگئےہیں وہاں خطیب بغیر تلوار کے خطبہ دے۔

حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے:

"و" إذا قام يكون "السيف بيساره متكئا عليه في كل بلدة فتحت عنوة" ليريهم أنها فتحت بالسيف فإذا رجعتم عن الإسلام فذلك باق بأيدي المسلمين يقاتلونكم به حتى ترجعوا إلى الإسلام "و" يخطب "بدونه" أي السيف "في" كل "بلدة فتحت صلحا" ومدينة الرسول فتحت بالقرآن فيخطب فيها بلا سيف ومكة فتحت بالسيف. (باب الجمعة، ص:515، مکتبه رشیدیه) فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144112200322

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں