بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

خریدار سے ایڈوانس رقم لے کر مطلوبہ چیز خرید کر قسطوں میں فروخت کرنا


سوال

اگر کوئی مجھ سے قسطوں پر کوئی چیز لینا چاہتا ہےاور میں وہ چیز خرید نے سے پہلے اس سےایڈوانس رقم لوں اور اسی ایڈوانس رقم میں کچھ اور پیسے ڈال کر وہ چیز خرید کر اس بندے کو دے دوں تو کیا یہ جائز ہے ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں قسطوں پر کوئی چیز فروخت کرنے سے قبل ایڈوانس  رقم وصول کرکے مطلوبہ چیز خریدنے اور اس پر قبضہ کرنے کے بعد وہ چیز قسطوں پر فروخت کرنا جائز ہوگا، البتہ مذکورہ چیز ملکیت میں آنے سے پہلے  صرف وعدۂ بیع کرے،  چیز ملکیت میں آجانے کے بعد حتمی سودا کرے۔

نیز قسطوں پر خرید و فروخت  جائز ، و صحیح ہونے کے لیے درج ذیل  شرائط کی رعایت ضروری ہے:

  1.   مدت متعین ہو۔
  2. مجموعی قیمت (اور قسط کی رقم) متعین ہو۔
  3. کسی قسط کی ادائیگی جلدی کرنے کی صورت میں قیمت میں کمی اور  تاخیر کی صورت میں اضافہ (جرمانہ) وصول کرنے کی شرط نہ رکھی جائے، اور نہ جرمانہ وصول کیا جائے۔

اگر معاملہ کرتے وقت مذکورہ بالا شرائط کی پاس داری نہ کی جائے تو اس صورت میں قسطوں پر خرید و فروخت کا معاملہ ہی فاسد ہوجائے گا۔

فتح القدیر لابن الهماممیں ہے:

"ومن اشترى شيئًا مما ينقل ويحول لم يجز له بيعه حتى يقبضه لأنه عليه الصلاة والسلام نهى عن بيع ما لم يقبض."

(کتاب البیوع، باب المرابحة والتولية، فصل اشترى شيئا مما ينقل ويحول، ٦ / ٥١٠ - ٥١١، ط: دار الفكر)

تبين الحقائق شرح كنز الدقائقمیں ہے:

 "لايجوز بيع المنقول قبل القبض؛ لما روينا ولقوله عليه الصلاة والسلام: «إذا ابتعت طعامًا فلاتبعه حتى تستوفيه» رواه مسلم وأحمد ولأن فيه غرر انفساخ العقد على اعتبار الهلاك قبل القبض؛ لأنه إذا هلك المبيع قبل القبض ينفسخ العقد فيتبين أنه باع ما لا يملك والغرر حرام لما روينا."

( کتاب البیوع، باب التولیة، فصل بيع العقار قبل قبضه، ٤ / ٨٠ ، ط: المطبعة الكبرى الأميرية - بولاق، القاهرة) 

شرح المجلة لخالد الاتاسيمیں ہے:

"للمشتري أن يبيع المبيع لآخر قبل قبضه إن كان عقاراً ... وإن كان منقولاّ فلا."

(کتاب البیوع، الباب الرابع فی بیان المسایل المعلقة بالتصرف، الفصل الاول، ٢ / ١٧٣ - ١٧٣، المادۃ: ١٥٣، ط:  مطبعة حمص) 

مجلة الأحكام العدليةمیں ہے:

"(الْمادة: ١٥٧) التقسيط تأجيل أداء الدين مفرقا إلى أوقات متعدّدة معينة."

(الكتاب الأول في البيوع، المقدمة: في بيان الاصْطلاحات الْفقهية المُتعلقة بِالبيوع، ١ / ٣٣، ط: نور محمد، كارخانه تجارتِ كتب، آرام باغ، كراتشي)

رد المحتار علي الدر المختارمیں ہے:

"وفي شرح الآثار : التعزير بالمال كان في ابتداء الإسلام ثم نسخ .والحاصل أن المذهب عدم التعزير بأخذ المال."

( كتاب الحدود، باب التعزير، ٤ / ٦١، ط: دار الفكر )

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144406102274

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں