بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

خریدوفروخت کا سودا مکمل ہونے کے بعد مارکیٹ ریٹ میں اضافہ ہونے کا حکم


سوال

خرید و فروخت کا معاملہ مکمل ہونے کے بعد ثمن کی ادائیگی سے قبل مارکیٹ ریٹ بڑھ جائے، تو بل کس قیمت کا بنایا جائے گا؟

جواب

واضح رہے کہ خریدار اور فروخت کنندہ کے درمیان کسی چیز کی خرید و فروخت کا معاملہ طے پاجائے،اور ایجاب وقبول ہوجائے تو اُس  سے بیع مکمل  ہوجاتی ہے اوربیع تام ہونے کے بعد جتنی قیمت پر معاملہ طے پایا ہو،اتنی قیمت ہی مشتری پر اداکرنا لازم ہے،مارکیٹ ریٹ بڑھنے یا کم ہونے کی وجہ سے فریقین   کے مابین متعینہ قیمت میں کمی بیشی کرنا درست نہیں ہے۔

"بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع" میں ہے:

"وأما حكم البيع .... فهو ثبوت الملك للمشتري في المبيع، وللبائع في الثمن للحال."

(کتاب البیوع،فصل فی حکم البیع،ج:5، ص:233، ط:سعید)

"فتاوی شامی" میں ہے:

"وحكمه ثبوت الملك.

وفي الرد:(قوله: وحكمه ثبوت الملك) أي في البدلين لكل منهما في بدل، وهذا حكمه الأصلي، والتابع وجوب تسليم المبيع والثمن، ووجوب استبراء الجارية على المشتري، وملك الإستمتاع بها، وثبوت الشفعة لو عقارا، وعتق المبيع لو محرما من البائع بحر، وصوابه من المشتري."

(كتاب البيوع، ج:4، ص:506، ط:سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144409101625

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں