بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ذو الحجة 1445ھ 22 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

خرچ ہونے والی رقم کو زکوۃ میں سے شمار کرنے کا حکم


سوال

میرے غریب رشتہ دار  ہیں، انکے قریب آس پاس دوسرے لوگ بھی غریب ہیں، میں نے زکوۃکے پیسوں میں سے ان سب کو خیرات کرکے کھانا کھلایا ، کیا اس مد میں خرچ ہونے والی رقم زکوۃ میں سے شمار کی جاسکتی ہے؟

جواب

زکوٰۃ ادا ہونے کے لیے زکوٰۃ کی رقم یا کھانا وغیرہ  کسی مستحق کو  مالک بناکر دینا شرط ہے،بٹھا کر کھانا کھلانے سے مالک نہیں ہوتا اس لیے زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی،لہذا    خرچ ہونے والی رقم  کوزکؤۃ میں سے شمار کرنا درست  نہیں  ہے،اور اگر زکوٰۃ کی رقم  سے کھانا پکاکر یا خرید کر انہیں مالک بنا دیا  گیا تھا  مثلا پیکٹ  بنا کر ان کو دیا  یا ان کے برتن میں ان کو دیدیا تو زکوٰۃ ادا  ہوگئی ،اس صورت میں خرچ ہونے والی رقم کو زکوۃ میں سے  شمار کرنا درست ہوگا، لہذا آئندہ پیکٹ وغیرہ بنا کر مالک بنا کر دیں تاکہ زکؤۃ ادا ہو جائے۔

فتاوی شامی  میں ہے:

"وشرعا (تمليك) خرج الإباحة، فلو أطعم يتيما ناويا الزكاة لا يجزيه إلا إذا دفع إليه المطعوم كما لو كساه بشرط أن يعقل القبض.....

(قوله: إلا إذا دفع إليه المطعوم) لأنه بالدفع إليه بنية الزكاة يملكه فيصير آكلا من ملكه، بخلاف ما إذا أطعمه معه."

(کتاب الزکاۃ،ج2،ص257،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144408102369

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں