بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو الحجة 1441ھ- 04 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

خراب موبائیل فروخت کردینا


سوال

کافی ماہ پہلے میں نے ایک بندے سے 12000 میں موبائل لیا، مگر وہ خراب موبائل تھا۔  میں نے اس بندے سے کہا کہ وہ واپس لے، مگر اس نے ایسا نہ کیا۔ میں نے اسے معاف کر دیا، مگر مجھ سے غلطی ہوئی کہ وہ موبائل میں نے آگے 7000 میں بیچ دیا۔ اب مجھے غلطی کا احساس ہے، مگر ظاہر ہے اب اس بندے سے رابطہ نہیں۔ اس صورت میں مجھے کیا کرنا چاہیے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں خراب موبائل کی خرابی بیان کیے بغیر آگے فروخت کرنا شرعاً صحیح نہیں تھا، اب سائل اس موبائل میں موجود خرابی کے ساتھ  اس کی قیمت لگوائے جو قیمت لگے وہ  رکھ کر اضافی رقم صدقہ کردے۔   فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144108201645

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں