بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 صفر 1442ھ- 23 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

کھانے کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا


سوال

کھانے کے بعد دعا کے لیے ہاتھ اٹھانا چاہیے یا نہیں؟

جواب

اس موقع پر دعا کرتے ہوئے ہاتھ اٹھانا یا اجتماعی طور پر مخصوص ہیئت کے ساتھ دعا کرنا کسی حدیث سے ثابت نہیں ہے، نیز  کھانے سے پہلے یا بعد کی دعائیں چوں کہ بمنزلہ ذکر  ہیں، اور اَذکارِ متواردہ (جیسے گھر میں داخل ہونے اور نکلنے کی دعا، مسجد میں داخل ہونے یا نکلنے کی دعا، کھانے سے پہلے، درمیان یا بعد کی دعا وغیرہ) کے بارے میں ادب یہی ہے کہ ہاتھ اٹھائے بغیر یہ دعائیں مانگی جائیں؛ اس لیے بھی یہ دعائیں  ہاتھ اٹھائے بغیر  ہی پڑھنی چاہیں، بلکہ اگر کوئی شخص کھانے کے بعد پڑھی جانے والی دعا میں ہاتھ اٹھانے کو ضروری سمجھے اور ہاتھ نہ اٹھانے والوں پر طعن و تشنیع کرے، اور مہمان کو اجتماعی ہیئت کے ساتھ دعا کرنے کا کہے تو اس کا یہ فعل بدعت بن جائے گا، جس کا ترک لازم ہوگا۔

البتہ کسی کے کوئی بزرگ شخصیت مدعو ہو اور  کھانے کے بعد صاحبِ خانہ برکت کی دعا کی درخواست کرے اور وہ عمومی دعا کریں اور اس موقع پر لوگ ہاتھ اٹھاکر دعا مانگیں تو اس کی اجازت ہے۔ اس کا تعلق کھانے کے بعد کی مسنون متوارد دعا سے نہیں ہوگا۔

کھانا کھانے کے بعدبطورِ شکر مسنون دعاؤں میں سے کوئی دعا مثلاً: ’’ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ أَطْعَمَنَا وَ سَقَانَا وَ جَعَلَنَا مُسْلِمِیْنَ‘‘ 

 یا

"الحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنِي هَذَا وَرَزَقَنِيهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلَا قُوَّةٍ"

یا اس کے علاوہ سنت سے ثابت دعا پڑھنا مسنون ہے۔

  کھانے کے بعد  دسترخوان اٹھائے جانے کے وقت :

«الحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ غَيْرَ مُوَدَّعٍ وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ رَبُّنَا»

پڑھنا مسنون ہے۔

   اگر کسی کی دعوت میں ہوں، ضیافت کے بعد صاحبِ خانہ کے لیے درج ذیل دعا

"اللهم بَارِكْ لَهُمْ فِي مَا رَزَقْتَهُمْ، وَاغْفِرْ لَهُمْ وَارْحَمْهُمْ"

یا 

’’أَفْطَرَ عِنْدَكُمُ الصَّائِمُونَ ، وَأَكَلَ طَعَامَكُمُ الْأَبْرَارُ، وَصَلَّتْ عَلَيْكُمُ الْمَلَائِكَةُ‘‘

پڑھنا مسنون ہے۔
سنن الترمذی میں ہے:

"3456 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَعْدَانَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رُفِعَتِ المَائِدَةُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ يَقُولُ: «الحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ غَيْرَ مُوَدَّعٍ وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ رَبُّنَا». «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ».

3457 - حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ قَالَ: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، وَأَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ رِيَاحِ بْنِ عَبِيدَةَ - قَالَ حَفْصٌ: عَنْ ابْنِ أَخِي أَبِي سَعِيدٍ، وقَالَ أَبُو خَالِدٍ: عَنْ مَوْلًى لِأَبِي سَعِيدٍ - عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَكَلَ أَوْ شَرِبَ قَالَ: «الحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا مُسْلِمِينَ».

 3458 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ المُقْرِئُ قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو مَرْحُومٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَكَلَ طَعَامًا فَقَالَ: الحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنِي هَذَا وَرَزَقَنِيهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلَا قُوَّةٍ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ": «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ» وَأَبُو مَرْحُومٍ اسْمُهُ: عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مَيْمُونٍ". ( كتاب الدعوات، بَاب مَا يَقُولُ إِذَا فَرَغَ مِنَ الطَّعَامِ، 5 / 507 - 508، ط: مصطفي البابي)

صحیح مسلم میں ہے:

"(2042) حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُسْرٍ، قَالَ: نَزَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَبِي، قَالَ: فَقَرَّبْنَا إِلَيْهِ طَعَامًا وَوَطْبَةً، فَأَكَلَ مِنْهَا، ثُمَّ أُتِيَ بِتَمْرٍ فَكَانَ يَأْكُلُهُ وَيُلْقِي النَّوَى بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ، وَيَجْمَعُ السَّبَّابَةَ وَالْوُسْطَى - قَالَ شُعْبَةُ: هُوَ ظَنِّي وَهُوَ فِيهِ إِنْ شَاءَ اللهُ إِلْقَاءُ النَّوَى بَيْنَ الْإِصْبَعَيْنِ - ثُمَّ أُتِيَ بِشَرَابٍ فَشَرِبَهُ، ثُمَّ نَاوَلَهُ الَّذِي عَنْ يَمِينِهِ، قَالَ: فَقَالَ أَبِي: وَأَخَذَ بِلِجَامِ دَابَّتِهِ، ادْعُ اللهَ لَنَا، فَقَالَ: «اللهُمَّ، بَارِكْ لَهُمْ فِي مَا رَزَقْتَهُمْ، وَاغْفِرْ لَهُمْ وَارْحَمْهُمْ». ( رقم الحدیث: 2042، 3 / 1615، كتاب الأشربة، بَابُ اسْتِحْبَابِ وَضْعِ النَّوَى خَارِجَ التَّمْرِ، وَاسْتِحْبَابِ دُعَاءِ الضَّيْفِ لِأَهْلِ الطَّعَامِ، وَطَلَبِ الدُّعَاءِ مِنَ الضَّيْفِ الصَّالِحِ وَإِجَابَتِهِ لِذَلِكَ، ط: دار احياء التراث العربي)

شرح النووي على مسلم  میں ہے:

"وَفِيهِ اسْتِحْبَابُ طَلَبِ الدُّعَاءِ مِنَ الْفَاضِلِ وَدُعَاءِ الضَّيْفِ بِتَوْسِعَةِ الرِّزْقِ وَالْمَغْفِرَةِ وَالرَّحْمَةِ وَقَدْ جَمَعَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الدُّعَاءِ خَيْرَاتِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ". ( كتاب الأشربة، بَابُ اسْتِحْبَابِ وَضْعِ النَّوَى خَارِجَ التَّمْرِ، وَاسْتِحْبَابِ دُعَاءِ الضَّيْفِ لِأَهْلِ الطَّعَامِ، وَطَلَبِ الدُّعَاءِ مِنَ الضَّيْفِ الصَّالِحِ وَإِجَابَتِهِ لِذَلِكَ، 13 / 224، ط: دار احياء التراث العربي)

رياض الصالحين للنووي  میں ہے:

"وعَنْ أَنسٍ ، أَنَّ النبيَّ ﷺ جَاءَ إِلى سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ ، فَجَاءَ بِخُبْزٍ وَزَيْتٍ، فَأَكَلَ، ثُمَّ قالَ النبيُّ ﷺ: أَفْطَرَ عِندكُمْ الصَّائمونَ، وأَكَلَ طَعَامَكُمْ الأَبْرَارُ وَصَلَّتْ عَلَيْكُمُ المَلائِكَةُ. رواهُ أَبُو داود بإِسنادٍ صحيحٍ". ( باب فضل مَنْ فَطَّر صَائمًا وفضل الصائم الذي يؤكل عنده، ودعاء الآكل للمأكول عنده)

حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح (ص: 318):

’’ ثم يمسحون بها" أي بأيديهم "وجوههم في آخره. قوله: "ثم يمسحون بها وجوههم" الحكمة في ذلك عود البركة عليه وسرايتها إلى باطنه وتفاؤلاً بدفع البلاء وحصول العطاء ولايمسح بيد واحدة؛ لأنه فعل المتكبرين، ودل الحديث على أنه إذا لم يرفع يديه في الدعاء لم يمسح بهما وهو قيد حسن؛ لأنه صلى الله عليه وسلم كان يدعو كثيراً كما هو في الصلاة والطواف وغيرهما من الدعوات المأثورة دبر الصلوات وعند النوم وبعد الأكل وأمثال ذلك ولم يرفع يديه ولم يمسح بهما وجهه، أفاده في شرح المشكاة وشرح الحصن الحصين وغيرهما‘‘. فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144108200601

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں