بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 ذو الحجة 1442ھ 31 جولائی 2021 ء

دارالافتاء

 

کھانا کھانے کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا


سوال

کیا کھانا یا دعوت کھانے کے بعد ہاتھ اٹھاکر دعا کرنا حدیث سے ثابت ہے؟ کبھی کبھی ہاتھ اٹھاکر دعا کرنے میں کچھ حرج ہے؟ اگر کہیں اس کا رواج ہو تو اس کا کیا حکم ہے؟  ہاتھ اٹھاکر دعا نہ کرنے پر برا محسوس کیا جاتا ہو اور طعن و تشنیع کی جاتی ہو ؟

جواب

مختلف مواقع کی مناسبت سے رسول اللہ ﷺ سے دعاؤں کے جو کلمات منقول ہیں، ان میں اصل یہ ہے کہ ان مواقع پر وہ دعائیں پڑھتے ہوئے ہاتھ نہ اٹھائے جائیں، تاہم کسی موقع پر اجتماعی دعا ہو اورہاتھ اٹھاکر  کرلی جائے تو اس میں حرج نہیں ۔ احادیث میں کھانے کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا تو احادیث میں نہیں مل سکا، البتہ کسی کے ہاں ضیافت کے موقع پر کھانے سے پہلے یا بوقتِ رخصت ہاتھ اٹھا کر دعا کرنے کا ذکر ملتاہے، اس لیے کسی کے  ہاں کھاناکھانے کے بعد دعا کرناجائز ہے اور اس میں ہاتھ بھی اٹھائے جاسکتے ہیں،البتہ اس کاالتزام  کرنا اور ہاتھ نہ اٹھانے والوں کو طعن و تشنیع کرنا درست نہیں ہے۔

سنن ابی داؤد شریف کی ایک روایت میں موجودہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کے ہاں ضیافت کے موقع پر ان کےلیے ہاتھ اٹھاکردعابھی فرمائی تھی، روایت کے الفاظ میں تو کھانے سے پہلے ہاتھ اٹھا کر برکت اور رحمت کی دعا کا ذکر ہے، تاہم اس سے معلوم ہواکہ کھانا کھانے کے بعد بھی میزبان کے لیے رحمت و برکت کی دعا ہاتھ اٹھا کر کی جاسکتی ہے۔ملاحظہ ہو:

’’حضرت قیس بن سعد فرماتے ہیں کہ: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے گھر میں ہم سے ملاقات فرمائی اور آ  کر فرمایا کہ: السَّلَامُ عَلَيْکُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ قیس کہتے ہیں کہ: میرے والد سعد نے آہستہ سے جواب دیا۔ قیس کہتے ہیں کہ: میں نے کہا :کیا آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اجازت نہیں دے رہے ؟انہوں نے جواب دیا کہ: صبر کرو ،میں چاہتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم پر زیادہ بار سلام کریں ۔چناں چہ  حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوبارہ فرمایا کہ: السلام علیکم ،حضرت سعد نے پھر آہستہ سے جواب دیا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تیسری بارفرمایا کہ: السلام علیکم ۔  پھر آپ علیہ الصلاۃ والسلام  واپس لوٹ گئے تو سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ   آپ کے پیچھے گئے اور عرض کیاکہ: یا رسول اللہ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں آپ کے سلام کی آواز سن رہا تھا اور آہستہ سے جواب دے رہا تھا تاکہ آپ ہم پر کثرت سے سلام فرمائیں۔ قیس کہتے ہیں کہ: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ساتھ  واپس تشریف لائے اور سعد نے آپ کے لیے پانی وغیرہ کے بندوبست کا حکم دیا، آپ نے غسل فرمایا، پھر سعد نے آپ کو زعفران اور ورس میں رنگی ہوئی ایک چادر دی جسے آپ نے لپیٹ لیا، پھر آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور آپ کہہ رہے تھے کہ اے اللہ! اپنی رحمت اور برکت نازل فرماسعد بن عبادہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہ )کی اولاد پر ۔ قیس کہتے ہیں کہ: پھر آپ نے کھانا کھایا جب آپ نے واپسی کا ارادہ فرمایا تو حضرت سعد نے ایک گدھا سواری کے لیے  پیش کیا جس پر ایک چادر پڑی تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر سوار ہوئے تو سعد نے فرمایا اے قیس حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہوجا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ: سواری پر ساتھ سوار ہو جاؤ، میں نے انکار کیا تو فرمایا کہ سوار ہو جاؤ ورنہ واپس لوٹ جاؤ ،قیس کہتے ہیں کہ میں لوٹ گیا‘‘۔

ایک اور روایت میں ہے کہ: حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: ابوالہیثم بن التیہان  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے کھانا بنایا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو دعوت دی ،جب سب لوگ کھانے سے فارغ ہو گئے توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے  فرمایا کہ اپنے بھائی کو اس کھانے کا بدلہ دو، صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کیا کہ: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کا بدلہ کیا ہے؟ فرمایا کہ: جب کوئی شخص کسی کے گھر میں جائے اور اس کا کھانا کھائے اس کا پانی پیے اور اس کے واسطے دعا کرے یہی اس کا بدلہ ہے۔

ابو داود شریف میں ہے:

"حدثنا هشام أبو مروان ومحمد بن المثنى - المعنى - قال: محمد بن المثنى حدثنا الوليد بن مسلم حدثنا الأوزاعي قال: سمعت يحيى بن أبى كثير يقول: حدثني محمد بن عبد الرحمن بن أسعد بن زرارة عن قيس بن سعد قال: زارنا رسول الله صلى الله عليه وسلم في منزلنا فقال: « السلام عليكم ورحمة الله »، فردّ سعد ردًّا خفيًّا. قال قيس: فقلت: ألا تأذن لرسول الله صلى الله عليه وسلم. فقال: ذره يكثر علينا من السلام فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: « السلام عليكم ورحمة الله ». فردّ سعد ردًّا خفيًّا، ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: « السلام عليكم ورحمة الله ». ثمّ رجع رسول الله صلى الله عليه وسلم واتبعه سعد، فقال: يا رسول الله إنى كنت أسمع تسليمك وأرد عليك ردًّا خفيًّا لتكثر علينا من السلام. قال: فانصرف معه رسول الله صلى الله عليه وسلم فأمر له سعد بغسل فاغتسل، ثمّ ناوله ملحفة مصبوغة بزعفران أو ورس فاشتمل بها ثمّ رفع رسول الله صلى الله عليه وسلم يديه، وهو يقول: « اللّٰهمّ اجعل صلواتك ورحمتك على آل سعد بن عبادة ». قال: ثمّ أصاب رسول الله صلى الله عليه وسلم من الطعام فلمّا أراد الانصراف قرب له سعد حمارًا قد وطأ عليه بقطيفة فركب رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال سعد: يا قيس اصحب رسول الله صلى الله عليه وسلم قال قيس، فقال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: «اركب». فأبيت، ثمّ قال: « إما أن تركب وإما أن تنصرف». قال: فانصرفت".

(سنن أبي داؤد، باب کم مرَّةً یسلّم الرجل للاستئذان :۴/۵۱۱)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144208201291

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں