بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 ذو القعدة 1445ھ 29 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

خلیفہ ہارون الرشید بیٹے کا واقعہ جو ہفتے میں ایک دن مزدوری کرتا تھا


سوال

خلیفہ ہارون رشید کے بیٹے کا واقعہ جو گارے سے دیواریں بناتا تھا، اس واقعے میں ان کی کرامات ذکر کی جاتی ہیں ؛کیا یہ واقعہ صحیح ہے؟اس کی سندی حیثیت مطلوب ہے؟یہ واقعہ من گھڑت تو نہیں؟  جب کہ تاریخی کتب میں اس کے تین بیٹوں مامون، امین اورمعتصم باللہ کا ذکر ہے ۔

جواب

خلیفہ ہارون الرشید کے بیٹے کا واقعہ   جس میں اس نوجوان بیٹے کے زہد و ورع اور محنت کشی اور آخر اسی حالت میں جان جاں آفریں کے سپرد کرنے کا احوال بیان ہوا ہے  ، اسے تفسیر "روح البیان" میں سورۂ کہف آیت نمبر 8 تا 12 کے تحت علامہ اسماعیل حقی رحمہ اللہ نے  بطورِ حکایت ذکر کیا ہے،اسی طرح یہ واقعہ حضرت  شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا نوّر اللہ مرقَدہ نے  بھی " فضائلِ صدقات" جلد دوم کی ساتویں فصل میں 59 ویں نمبر پر ذکر کیا ہے (جلد دوم ص:391 تا 397، مجموعی صفحہ نمبر 751 تا 757۔ کتب خانہ فیضی) ؛ اس کے بارے میں مؤرخِ بغداد حافظ محب الدینؒ ابن النجار  (ت:643) کہتے ہیں کہ قصے کے اصل راوی عبد اللہ ابن الفرج العابد  (ابو محمدالقنطری) اپنے وقت کے بہت بڑے زاہدوں میں سے تھے، انہوں نے اپنی روایت میں اس لڑکے کا نام نہیں لیا (ہارون رشید کا ایک بیٹا کہہ کر ذکر کیا) ۔

تاہم    دیگر کئی علماء و مؤرخین نے بھی    اپنی  سندوں سے اس واقعے کو روایت کیا ہے، ان سندوں میں عبد اللہ ابن الفرج العابد نہیں ہیں، اور یہ حضرات اس لڑکے کا نام "احمد بن ہارون الرشیدالسَبتی الزاہد" بتاتے ہیں۔   چوں کہ یہ صرف ہفتے کے روز  کام کرنے اور روزی کمانے کے لیے نکلتا تھا، اور عربی میں ہفتہ کے دن کو 'سبت' کہتے ہیں، اس لیے اس کا لقب    "السَبتی " مشہور ہوگیا، یعنی ہفتے والا زاہد۔ابنِ خلکانؒ نے اس کی کنیت "ابو العباس" ذکر کی ہے۔ کچھ کتابوں میں اس کی کنیت "ابو عیسی" بھی لکھی ہے۔ لیکن "ابو عیسی" کے نام سے  ہارون الرشید کے  بیٹے کے جو احوال درج  ہیں، وہ زاہد بیٹے کے احوال سے میل نہیں کھاتے ، بلکہ وہاں اس کی وفات بھی ہارون کے انتقال کے بہت عرصے بعد ہونا مذکور  ہے، حالاں کہ ہمارے زیرِ بحث واقعہ میں جس بیٹے کا ذکر ہے، وہ نوجوانی میں ہی اس وقت وفات پا گیا تھا جب کہ ابھی ہارون الرشید زندہ تھا اور بغداد میں عباسی حکومت کے تخت پر براجمان تھا۔

بعض مؤرخین کے نزدیک  ہارون الرشید کے زاہد بیٹے کا واقعہ شاید درست نہیں ہے، اور ان کے شک کی دو وجوہ ہیں؛ 1) ایک تو یہ ایسے کسی بیٹے کا ذکر تاریخ طبری میں نہیں ہے، اسی طرح ابن الاثیر نے بھی ہارون الرشید کے بیٹوں میں اس کا تذکرہ نہیں کیا؛ 2)دوسری یہ کہ  ابو عیسی کی کنیت سے جس بیٹے کا ذکر ہے اور اس کا نام احمد بتایا جاتا ہے، اس کی  وفات بھی اپنے والد کی زندگی میں نہیں ہوئی اور وہ سوّروں کے شکار کا شوقین تھا، اسی شوق میں ایک دن سواری سے گرا، سر میں چوٹ آئی، جس سے دماغ متاثر ہوا اور وہ چل بسا۔

لیکن اول یہ کہ ہارون الرشید کے بیٹوں کی تعداد مختلف کتابوں میں تعداد کے کم و بیش فرق کے ساتھ آئی ہے، چناں چہ کہیں نام بہ نام یہ تعداد دس تک ذکر ہوئی ہے اور کہیں گیارہ، اور کہیں یہ تعداد تیرہ تک پہنچ گئی ہے؛ جس سے کم از کم یہ بات تو بالکل واضح ہے کہ ہارون الرشید کے تین مشہور  بیٹوں، محمد الامین، عبد اللہ المامون اور ابو یعقوب محمد المعتصم باللہ  جوکہ یکے بعد دیگرے حکم راں ہوئے، کے علاوہ اور بھی کئی بیٹے تھے، جن میں سے کچھ تو با ضابطہ بیٹوں کی فہرست میں درج ہوئے اور کچھ درج ہونے سے رہ بھی گئے۔ دوم یہ کہ فہرست میں زاہد بیٹے کا نام مذکور نہ ہونے کے با وجود یہ واقعہ ایک سے زائد مؤرخین نے معتبر طرق سے نقل کیا ہے، چناں چہ علامہ ابو الفرج عبد الرحمن ابن الجوزی  اپنی کتاب "المنتظم فی تاریخ الملوک و الامم" میں لکھتے ہیں: "۔۔۔ اور یہ طریق جو ہم لائے ہیں، اصح ہے اور اس کے اَسناد ثقات ہیں"، اور "صفوۃ الصفوۃ" میں اسے دو سندوں سے  نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں کہ "پہلی سند کے راوی ثقات ہیں"؛ جب کہ امام ابو بکر  الآجُرّی البغدادی (ت:360ھ) ان سے بھی پہلے اس واقعے کو اپنی سند کے ساتھ اپنی کتاب "الغرباء" بغیر کسی تنبیہ کے ذکر کرتے ہیں۔ غرض یہ کہ اس طرح کے معتد بہ شواہد اور تصریحات موجود ہیں، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ہارون الرشید کا ایک بیٹا زاہد تھا، جس نے اپنے والد کی سلطنت سے کوئی سروکار نہ رکھا، عبادت گزار  تھا، اور قُوتِ لا یموت  کی خاطر ہفتے میں ایک روز مزدوری کرتا تھا، آخر کم سنی اور نوجوانی میں جاں بحق ہوا۔ چناں چہ حافظ عماد الدینؒ ابن کثیر "البدایہ و النہایہ" میں اس واقعہ کا ذکر کرنے کے بعد اس لڑکے کی والدہ کے بارے میں یہ تعیین کرتے ہوئے کہ یہ زبیدہ سے ہارون کے قبل از حکومت زمانے میں پیدا ہوا یا اس کی والدہ کوئی اور ہیں، اس بات کو صحیح قرار دیتے ہیں کہ ملکہ زبیدہ اس کی والدہ  نہیں تھیں، بلکہ ایک دوسری خاتون اس کی والدہ تھیں، جن   کو ہارون الرشید   پسند کرتا تھا اور اس  نے اپنے والد کی حیات میں ان سے شادی کی تھی؛ مگر ہارون نے  اپنے والد کو اطلاع دیے بغیر یہ شادی کی تھی، اس وجہ سے  ان کو الگ رکھا تھا، اور لوگ ان سے واقف نہیں تھے۔

دل چسپ بات یہ ہے کہ ابن کثیر رحمہ اللہ نے  184ھ کے واقعات میں اس لڑکے کی وفات کا واقعہ درج کیا ہے، اور وہیں مذکورہ بالا تفصیل لکھی ہے؛ لیکن آگے جہاں ہارون کی مذکر اولاد کے نام گنائے ہیں، وہاں دس بیٹوں کے نام لکھے ہیں، مگر  اس کا نام نہیں لیا؛ اس سے بھی پتہ چلتا ہے کہ البدایہ و النہایہ سمیت دوسری اہم کتابوں میں ہارون الرشید کے بیٹوں کی فہرست میں  درج ناموں کے علاوہ  ہارون الرشید کے اور  بیٹے بھی تھے، جن میں سے ایک یہ ہے، اور اس کی والد ہ کا بھی  نام معلوم نہیں ہے۔  اسی طرح تاریخِ اسلام میں علامہ ذہبی رحمہ اللہ نے ہارون الرشید کے ایک اور  بیٹے ابو احمد بن ہارون کا ذکر کیا ہے، جو اپنے بھائیوں میں سے فوت ہونے والا سب سے آخری شخص تھا،  اس کا انتقال معتز باللہ کے زمانے میں ہوا تھا، یہ مذکور الصدر احمد ؒبن ہارون سے الگ دوسری شخصیت ہے۔

خلاصہ یہ کہ ہارون الرشید کے نوجوانی میں ہی فوت ہوجانے والے عابد وزاہد بیٹے کا واقعہ     من گھڑت یا یا ناقابلِ بیان حد تک ضعیف نہیں ہے، بلکہ صحیح ہے ؛ البتہ فضائلِ صدقات میں درج تفصیلی واقعہ در اصل علامہ اسماعیل حقی کی کتاب روح البیان سے لیا گیا ہے، اور علامہ اسماعیل نے اس کو  بغیر کسی سند کے بطور حکایت ذکر کیا ہے، اور وہاں یہ بہت ساری کرامتوں پر مشتمل ایک طولانی قصہ ہے؛ جس میں اصل واقعے سے کہیں زیادہ  جزئیات و تفصیلات ہیں، جن کے بارے میں غالب گمان یہ ہے کہ یہ سب قصہ گو لوگوں کے اضافے ہیں، جن کا کوئی اعتبار نہیں؛  ایسی تفصیلات متضاد معلومات اور محال معاملات پر مشتمل ہوتی ہیں، اسی لیے ابن الجوزیؒ نے "المنتظم" میں تنبیہ  فرمائی ہے کہ اس واقعے میں قصہ گو واعظوں نے بہت سے بے سرو پا اضافے بھی کیے ہیں۔

اصل واقعہ اتنا ہے کہ :

"ابوبکر محمد بن الحسین الآجُرّی کہتے ہیں کہ میں نے ابوبکر بن ابوالطیب کو یہ کہتے ہوئے سنا، کہ ہمیں عبد اللہ بن الفرج العابد سے روایت پہنچی کہ انہوں نے کہا: "مجھے ایک دن روزانہ کی دیہاڑی پر کام کرنے والے  کسی کاریگر کی ضرورت پیش آئی تاکہ وہ مجھے کوئی چیز بنا دے۔ تو میں بازار چلا آیا، کیا دیکھتا ہوں کہ مزدوروں کے بالکل آخر میں ایک جوان ہے، جس کا رنگ زرد ہو رہا ہے۔  اس کے سامنے ایک بڑی ٹوکری  تھی، اور اس نے اون کا جبہ اور اون ہی کا تہہ بند پہنا ہوا تھا۔ میں نے اس سے پوچھا: کام کرو گے؟ تو اس نے کہا: 'ہاں'۔ پھر میں نے پوچھا: کتنے میں؟ اس نے جواب دیا: ایک درہم اور ایک دانق میں۔ میں نے کہا: پھر چلو کام پر ۔ کہنے لگا: ایک شرط پر  ! جب ظہر کا وقت ہوگا تو میں پاک صاف ہوکر مسجد میں باجماعت نماز پڑھوں گا، پھر واپس کام میں لگ جاؤں گا؛ اسی طرح عصر کا معاملہ ہوگا۔ میں نے کہا: ٹھیک ہے۔ اس کے بعد ہم گھر آ گئے اور میں نے سامان منتقل کرنے میں اس کا ساتھ دیا۔ پھر وہ کام کرنے لگ گیا، اور کام کے دوران  وہ مجھ سے کوئی بات نہیں کرتا تھا۔یہاں تک کہ ظہر کی اذان ہوگئی، تو اس نے مجھ سے اجازت مانگی، اور میں نے اجازت دے دی۔  اس نے (اپنی شرط کے مطابق مسجد میں باجماعت) نماز ادا کی، پھر لوٹ آیا اور عصر تک عمدہ طریقے سے کام کیا۔ جب عصر کی اذان ہوگئی، تو اس نے ظہر والا  معاملہ دہرایا (اجازت لے کر مسجد میں با جماعت نماز پڑھ آیا)۔ اس کے بعد  دن کے آخر تک کام کرتا رہا، پھر میں نے اسے اجرت دے دی، اور وہ چلا گیا۔

پھر جب کچھ دنوں بعد ہمیں کسی کام کے سلسلے میں ضرورت پڑی، تو میری گھر والی نے کہا: اسی جوان کاریگر کو ڈھونڈو، اس نے ہمارے ساتھ بڑے خلوص اور خیر خواہی سے کام کیا ہے۔ میں بازار کی جانب گیا، مگر وہ مجھے دکھائی نہیں دیا۔  میں نے اس کے بارے میں معلوم کیا، تو لوگوں نے بتایا کہ: ہم اسے ایک ہفتے کے بعد دوسرے ہفتے کے دن ہی اسے دیکھتے ہیں، (باقی دنوں وہ یہاں نہیں آتا)۔ پھر میں ہفتے کے روز گیا، تو  اس سے سامنا ہوگیا، میں نے پوچھا: کام کروگے   ؟ اس نے کہا: تم تو اجرت اور شرط جان ہی گئے ہو؟ میں نے کہا: ہاں۔ پھر وہ اٹھ کھڑا ہوا اور پہلے دن والے انداز میں کام کیا(وہی شرط  اور وہی شام ہونے تک محنت)۔ جب میں نے اس دن کی اجرت تولی تو کچھ زیادہ کر دی، مگر اس نے زیادہ لینے سے انکار کر دیا۔ میں نے اس پر اصرار کیا (کہ زیادہ ہی لے لو، خوشی سے دے رہا ہوں)، تو وہ تنگ آ گیا اور مجھے چھوڑ کر چل دیا۔ مجھے اس کے بغیر اجرت جانے سے غم ہوا، میں اس کے پیچھے پیچھے گیا اور اس کی بڑی منت سماجت کی، یہاں تک کہ اس نے صرف اپنی اجرت لے لی۔

  جب ایک مدت کے بعد ہمیں دوبارہ اس کی ضرورت پڑی، تو میں ہفتے کے دن اس کے پاس گیا، مگر اسے نہ پایا۔ میں اس کے بارے میں دریافت کیا تو بتایا گیا کہ وہ بیمار ہے۔ وہ ایک بڑھیا کے گھر میں تھا، میں وہاں گیا اور اجازت لے کراس جوان کے پاس اندر  چلا گیا۔ میں نے سلام کیا، اور پوچھا: کیا تمہاری کوئی حاجت ہے؟ اس نے کہا: ہاں، اگر تم (اس کی ذمہ داری) قبول کرو۔ میں نے جواب دیا: قبول ہے (بتاؤ)! اس نے کہا: جب میں مر جاؤں، تو اس مَشک یا پھاؤڑے کو (علی اختلاف الروایات) فروخت کر دینا، اور میرے اس اونی جبے اور تہہ بند کو دھو کر  انہیں میں مجھے کفن دینا۔ تم  اس جبے کا گریبان کھول  کر، اس میں ایک انگوٹھی ہے وہ لے لو۔ تم  خلیفہ (ہارون) الرشید کے راستے میں کسی ایسی جگہ کھڑے ہو جانا، جہاں وہ تمہیں دیکھ لیں،پھر تم انہیں یہ انگوٹھی دکھانا اور ان کے سپرد کر دینا۔ مگر یہ کام میرے دفن کے بعد ہی ہونا چاہیے! میں نے کہا: بہتر۔ اور جب وہ دنیا سے رخصت ہوگیا، میں نے وہی کیا جس کا اس نے مجھے حکم دیا تھا۔ میں سواری نکلنے کے دن ہارون الرشید کی تاک میں لگا اور اس کے راستے میں بیٹھ گیا۔  پھر جب وہ سواری پر قریب آیا، تو میں نے آواز لگائی: اے امیر المؤمنین! میرے پاس آپ کی ایک امانت ہے۔ اور میں نے انگوٹھی بھی لہرائی۔  مجھے پکڑ لیا گیا اور (ایک سواری پر) بٹھالیا گیا، (میں ساتھ ساتھ رہا) یہاں تک کہ خلیفہ ہارون اپنے محل میں داخل ہوگیا۔ پھر اس نے مجھے تنہائی میں بلایا، اور پوچھا: تم کون ہو؟ میں نے کہا: عبد اللہ۔ پھر اس نے سوال کیا: یہ انگوٹھی تمہارے پاس کہاں سے آئی؟ میں نے اسے  جوان کا قصہ سنا دیا۔        تو وہ رونے لگا، یہاں تک کہ (اتنا رویا کہ) مجھے اس پرترس آنے لگا اور میں نے کہا: اللہ آپ پر رحم کرے۔

پھر جب اسے میری موجودگی سے کچھ ڈھارس ہوئی، تو میں نے کہا: اے امیر المؤمنین! وہ آپ کا کون تھا؟ اس نے بتایا: میرا بیٹا تھا، میرے خلافت کی ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے پیدا ہوا، اچھی طرح پلا بڑھا،  قرآن پاک اور علم سیکھا۔ اور جب میں   نے خلافت کا بار اٹھایا، تو اس نے مجھے چھوڑ دیا؛ اس نے کچھ بھی حاصل نہیں کیا تھا، تو میں نے اس کی ماں کو یہ انگوٹھی دی، جو  یاقوت کی ہے اور اس کی بڑی قیمت ہے۔ میں نے اس کی ماں سے کہا: یہ اسے دے دو، شاید اسے ضرورت پڑے تو کام آجائے۔ وہ اپنی والدہ کا فرماں بردار تھا، یہاں تک کہ وہ انتقال کر گئی۔ پھر مجھے اس لڑکے کی کوئی خبر نہیں تھی، کچھ پتا نہ چلا، یہاں تک کہ بس اب جو تم نے آ کر اس (کے انتقال) کی خبر دی۔ اس کے بعد ہارون الرشید نے کہا: جب رات ہو تو میرے ساتھ اس کی قبر کی جانب نکلنا۔    پھر  جب رات ہوگئی، تو وہ  اس بیٹے کی قبر دیکھنے کے لیے میرے ساتھ اکیلا ہی چلا، اور اس کی قبر پر (سرہانے) بیٹھ کر زار و قطار رویا۔ جب پَوپھٹنے لگی، اور فجر کا وقت ہوا، تب ہم لوٹے۔ پھر اس نے مجھے  کہا: کسی کسی دن میرے پاس ملنے آیا کرو، تاکہ میں اس کی قبر دیکھنے جایا کروں۔ تو میں اس کے پاس پابندی سے جایا کرتا   تھا۔۔۔[علامہ صفدیؒ کہتے ہیں کہ میں نے اس واقعے میں ذرا اختصار سے کام لیا ہے، لیکن مقصود  پر فرق نہیں پڑا] (اس جوان) احمد السَبتی کا انتقال 184 ہجری میں ہوا، رحمہ اللہ تعالٰی۔"

‌‌الوافی بالوفیات   (صلاح الدین خلیل بن أیبک الصفدی ت 764ھ) میں ہے:

" ‌‌(أحمد بن هارون)

(ابن هارون الرشيد المعروف بالسبتي):

أحمد بن هارون الرشيد ابن المهدي ابن المنصور العباسي المعروف بالسبتي الزاهد .عرفبهذه النسبة لأنه كان لا يظهر إلا يوم السبت. روى محب الدين ابن النجار بسنده إلى أبي بكر بن محمد بن الحسين الآجري قال سمعت أبا بكر ابن أبي الطيب يقول بلغنا عن عبد الله بن الفرج العابد قال احتجت إلى صانع يصنع لي شيئا من أمر الروزجاريين فأتيت السوق فإذا في آخرهم شاب مصفر بين يديه زنبيل كبير و مَر وعليه جبة صوف ومئزر صوف فقلت له تعمل قال نعم قلت بكم قال بدرهم ودانق فقلت له قم حتى تعمل قال على شريطة إذا كان وقت الظهر تطهرت وصليت في المسجد جماعة ثم أعود وكذلك العصر قلت نعم فجئنا المنزل ووافقته على ما ينقله فجعل يعمل ولا يكلمني بشيء حتى أذن الظهر فاستأذنني فأذنت له فصلى ورجع وعمل عملا جيدا إلى العصر فلما أذن الظهر فعل كالظهر ولم يزل يعمل إلى آخر النهار فأعطيته أجرته وانصرف فلما كان بعد أيام احتجنا إلى عمل فقالت زوجتي اطلب ذلك الصانع الشاب فإنه نصحنا فجئت إلى السوق فلم أره فسألت عنه فقالوا لا نراه إلا من السبت إلى يوم السبت فأتيت يوم السبت وصادفته فقلت تعمل فقال قد عرفت الأجرة والشرط قلت نعم فقام وعمل في اليوم الأول فلما وزنت الأجرة زدته فأبى يأخذ الزيادة فألححت عليه فضجر وتركني ومضى فغمني ذلك وتبعته وداريته حتى أخذ أجرته فقط فلما كان بعد مدة احتجنا إليه فمضيت يوم السبت فلم أصادفه فسألت عنه فقيل هو عليل فأتيته وهو في بيت عجوز فاستأذنت ودخلت عليه فسلمت وقلت ألك حاجة قال نعم إن قبلتقلت نعم قال إذا أنا مت فبع هذا المر واغسل جبتي هذه الصوف وهذا المئرز وكفني بهما وافتق جيب الجبة فإن فيها خاتما فخذه وقف للخليفة الرشيد في موضع يراك وأره الخاتم وسلمه إليه ولا يكون هذا إلا بعد دفني فقلت نعم ولما مات فعلت ما أمرني ورصدت الرشيد في يوم ركوبه وجلست على الطريق له فلما دنا قلت يا أمير المؤمنين لك عندي وديعة ولوحت بالخاتم فأخذت وحملت حتى دخل داره ثم دعاني خلوة وقال من أنت قلت عبد الله قال هذا الخاتم من أين لك فحدثته قصة الشاب فجعل يبكي حتى رحمته فلما أنس بي قلت يا أمير المؤمنين من هو لك قال ابني ولد قبل أن ألي الخلافة ونشأ نشأ حسنا وتعلم القرآن والعلم ولما وليت الخلافة تركني ولم ینل من دنیای شيئا فدفعت إلى أمه هذا الخاتم وهو ياقوت له قيمة كبيرة وقلت ادفعي هذا إليه وكان بها بارا لعله يحتاج إليه ينتفع به وتوفيت أمه فما عرفت له خبرا إلا ما أخبرتني به أنت ثم قال إذا كان الليل اخرج معي إلى قبره فلما كان الليل مشيمعي وحده وجلس على قبره وبكى بكاء شديدا فلما طلع الفجر رجعنا ثم قال لي تعاهدني في بعض الأيام حتى أزوره قبره فكنت أتعاهده قال محب الدين ابن النجار عبد الله ابن الفرج العابد راوي هذه الحكاية هو أبو محمد القنطري كان من أعيان الزهاد وكان بشر بن الحارث يزوره ولم يسم ابن الرشيد في هذه الرواية. قلت وقد اختصرت بعض ألفاظها ولم أخل بالمعنى المقصود منها لطولها قليلا وتوفي أحمد السبتي في سنة أربع وثمانين ومائة رحمه الله تعالى."

(احمد بن ھارون، المعروف احمد السبتی، المجلد الثامن، ص143-145، ط: دار إحیاء التراث-بیروت)

الغرباء للآجرّی (أبو بكر محمد بن الحسين ت360ھ)میں ہے:

" کما مضی من قبل، بألفاظ متقاربة مع زیادۃ یسیرۃ"

(‌‌باب ذكر من كان يحب الغربة ويخفي نفسه وينتقل من موضع إلى موضع ، ص 61-65، ت بدر البدر، ط:دار الخلفاء للكتاب الإسلامي-الكويت)

المنتظم فی تاریخ الملوک و الأمم (عبد الرحمن ابن الجوزی ت 597ھ) میں ہے:

"‌‌ذكر من توفي في هذه السنة من الأكابر:
‌‌1001- أحمد بن هارون الرشيد [1] .
أخبرنا أبو القاسم هبة الله بن أحمد الحريري قال: أنبأنا أبو طالب محمد بن علي بن الفتح العشاري قال: أخبرنا أبو بكر أحمد بن محمد بن غالب/ الخوارزمي قال: أخبرنا إبراهيم بن أحمد المزكي قال: أخبرنا أبو العباس محمد بن إسحاق الثقفي قال: سمعت علي بن الموفق يقول: سمعت عبد الله بن الفتوح يقول: خرجت يوما أطلب رجلا يرم لي شيئا في الدار، فذهبت، فأشير لي إلى رجل حسن الوجه بين يديه مزود وزنبيل، فقلت: تعمل لي؟ قال: نعم بدرهم ودانق. فقلت: قم. فقام فعمل لي عملا بدرهم ودانق [ودرهم ودانق، ودرهم ودانق] ثم أتيت يوما آخر فسألت عنه فقيل ذاك رجل لا يرى في الجمعة إلا يوما واحدا يوم كذا. قال: فجئت ذلك اليوم، فقلت: تعمل لي؟ قال: نعم بدرهم ودانق. فقلت أنا: بدرهم. فقال: بدرهم ودانق . ولم يكن بي الدانق، ولكن أحببت أن أستعلم ما عنده، فلما كان المساء وزنت له درهما، فقال لي: ما هذا؟ قلت: درهم. قال: ألم أقل لك: درهم ودانق؟! أفسدت علي. فقلت: وأنا ألم أقل لك بدرهم؟ فقال: لست آخذ منه شيئا قال: فوزنت له درهما ودانقا. فقلت: خذ. فأبى [أن يأخذ] وقال: سبحان الله أقول [لك] لا آخذ وتلح علي!؟ فأبى أن يأخذه ومضى.
قال: فأقبل علي أهلي، وقالت: فعل الله بك ما أردت من رجل عمل لك عملا بدرهم أن أفسدت عليه. قال: / فجئت يوما أسأل عنه، فقيل لي: مريض،
فاستدللت على بيته فأتيته، فاستأذنت عليه فدخلت وهو مبطون، وليس في بيته شيء إلا ذلك المزود والزنبيل، فسلمت عليه وقلت له: لي إليك حاجة، وتعرف فضل إدخال السرور على المؤمن أحب لما جئت إلى بيتي أمرضك. قال: وتحب ذلك؟ قلت: نعم.

قال: بشرائط ثلاث. قلت: نعم. قال: أن لا تعرض علي طعاما حتى أسألك، وإذا أنا مت أن تدفني في كسائي وجبتي هذه. قلت: نعم. قال: والثالثة أشد منهما، وهي شديدة، قلت: وإن كان. فحملته إلى منزلي عند الظهر، فلما كان من الغد ناداني يا عبد الله [فقلت: ما شأنك. قال] قد احتضرت، افتح صرة على كم جبتي. قال: ففتحتها فإذا فيها خاتم عليه فص أحمر، فقال: إذا أنا مت ودفنتني فخذ هذا الخاتم، ثم ادفعه إلى هارون [الرشيد] أمير المؤمنين، فقل له: يقول لك صاحب هذا الخاتم: ويحك! لا تموتن على سكرتك هذه فإنك إن مت على سكرتك هذه ندمت. قال: فلما دفنته سألت يوم خروج هارون الرشيد أمير المؤمنين، وكتبت قصة، وتعرضت له وأوذيت أذى شديدا، فلما دخل قصره وقرأ القصة وقال: علي بصاحب هذه القصة.
قال: فأدخلت عليه وهو مغضب يقول: يتعرضون لنا ويفعلون. فلما رأيت غضبه/ أخرجت الخاتم، فلما نظر إلى الخاتم قال: من أين لك هذا [الخاتم] قلت: دفعه إلي رجل طيان. فقال لي: طيان طيان، وقربني منه. فقلت: يا أمير المؤمنين إنه أوصاني بوصية. فقال لي: ويحك! قل. فقلت: يا أمير المؤمنين إنه أوصاني إذا أوصلت إليك هذا الخاتم أن أقول لك يقرئك صاحب هذا الخاتم السلام ويقول لك: ويحك لا تموتن على سكرتك هذه فإنك إن مت عليها ندمت. فقام على رجليه قائما وضرب بنفسه على البساط، وجعل يتقلب عليه ويقول: يا بني نصحت أباك. فقلت في نفسي: كأنه ابنه، ثم جلس وجاءوا بالماء، فمسحوا وجهه، وقال: كيف عرفته؟ قال: فقصصت عليه قصته.
قال: فبكى وقال: هذا أول مولود لي، وكان أبي المهدي ذكر لي زبيدة أن يزوجني بها، فبصرت بهذه المرأة فوقعت في قلبي، وكانت خسيسة فتزوجتها سرا من أبي، فأولدتها هذا المولود، وأحدرتها إلى البصرة [وأعطيتها] هذا الخاتم وأشياء، وقلت لها: اكتمي نفسك، فإذا بلغك أني قعدت للخلافة فأتيني، فلما قعدت للخلافة سألت عنهما فقيل [لي إنهما] ماتا، ولم أعلم أنه باق، فأين دفنته؟ قلت: يا أمير المؤمنين دفنته في قبور عبد الله بن مالك. / قال: لي إليك حاجة، إذا كان بعد المغرب فقف لي بالباب حتى أنزل إليك [فأخرج] متنكرا إلى قبره.
فوقفت له، فخرج متنكرا والخدم حوله حتى وضع يديه بيدي، وصاح بالخدم فتنحوا، فجئت به إلى قبره، فما زال ليلته يبكي إلى أن أصبح ويداه ورأسه ولحيته على قبره [وجعل] يقول: يا بني، لقد نصحت أباك. قال: فجعلت أبكي لبكائه رحمة مني له، ثم سمع كلاما فقال: كأني أسمع كلام الناس. قلت: أجل أصبحت يا أمير المؤمنين، قد طلع الفجر. فقال لي: قد أمرت لك بعشرة آلاف درهم، واكتب عيالك مع عيالي، فإن لك علي حقا بدفنك ولدي، وإن أنا مت أوصيت: من يكون من بعدي أن يجري عليك ما بقي لك عقب، ثم أخذ بيدي حتى إذا بلغ قريبا من القصر [ويده بيدي، فلما صار إلى القصر] قال: أنظر ما أوصيك به إذا طلعت الشمس، فقف لي حتى أنظر إليك فأدعو بك فتحدثني حديثه. قلت: إن شاء الله، فلم أعد إليه.
[قال المصنف]: وقد روي حديث السبتي من طريق آخر، وفيه أشياء تخالف هذا، وهذه الطريق التي سقناها أصح، وأسنادها ثقات. وقد زاد القصاص في حديث السبتي، وأبدءوا وأعادوا وذكروا أنه كان من زبيدة، وأنه خرج يتصيد فوعظه صالح المري، فوقع من فرسه وأشياء كلها محال."

‌‌_________
[1] البداية والنهاية 10/ 184

(سنة أربع وثمانين ومائة، ‌‌ذكر من توفي في هذه السنة من الأكابر، 96/9-93، ط:دار الكتب العلمية، بيروت)

 

مرآۃ الزمان فی تواریخ الأعیان (سبط ابن الجوزی ت: 654ھ) میں ہے:

" ‌‌أحمد بن هارون الرشيد المعروف بالسبتي:

قال عبد الله بن الفرج العابد: احتجت إلى صانع يصنع لي شيئا من أمر الروزجاريين ، فأتيت السوق، فإذا في آخرهم شاب مصفر بين يديه زنبيل كبير ومَر، وعليه جبة صوف ومئزر صوف، فقلت له: تعمل؟ قال: نعم، قلت: بكم؟ قال: بدرهم ودانق، قلت له: قم حتى تعمل، فقال: على شريطة، قلت: وما هي؟ قال: إذا كان وقت الظهر وأذن المؤذن، خرجت فتطهرت وصليت في المسجد جماعة ثم رجعت، فإذا كان وقت العصر فكذلك، قلت: نعم.

فقام معي، فجئنا المنزل، فوافقته على ما ينقله من موضع، فشد وسطه وجعل يعمل ولا يكلمني حتى أذن الظهر، فقال: يا عبد الله، قد أذن المؤذن، فقلت: شأنك. فخرج فصلى وعاد، فعمل عملا جيدا إلى العصر، فلما أذن المؤذن، خرج فصلى ثم رجع، فعمل إلى آخر النهار، فوزنت له أجرته، فانصرف.

فلما كان بعد أيام، احتجنا إلى عمل، فقالت لي زوجتي: اطلب لنا ذاك الصانع الشاب؛ فإنه قد نصحنا في عملنا. فجئت إلى السوق فلم أره، فسألت عنه، فقالوا: تسأل عن ذاك المصفر المشؤوم الذي لا نراه إلا من سبت إلى سبت، لا يجلس إلا وحده في آخر الناس! فانصرفت. فلما كان يوم السبت، أتيت السوق فصادفته، فقلت له: تعمل معي؟ فقال: قد عرفت الأجرة والشرط، فقلت: استخر الله تعالى، فقام فعمل على النحو الذي كان يعمل، فلما وزنت له الأجرة زدته، فأبى أن يأخذ الزيادة، فألححت عليه، فضجر وتركني ومضى. فغمني ذلك، فاتبعته وداريته حتى أخذ أجرته فقط.

فلما كان بعد مدة، احتجنا إلى صانع، فأتيت السوق يوم السبت، فلم أصادفه، فسألت عنه، فقيل لي: هو عليل. وقال لي من يخبر أمره: إنما كان يجيء إلى السوق من سبت إلى سبت، يعمل بدرهم ودانق، يتقوت كل يوم بدانق، وقد مرض، فسألت عن منزله، فأتيته وهو في بيت عجوز، فقلت لها: الشاب الروزجاري؟ قالت: هو عليل منذ أيام. فدخلت عليه، فوجدته لما به وتحت رأسه لبنة، فسلمت عليه وقلت: لك حاجة؟ قال: نحم إن قبلت، قلت: أقبل إن شاء الله، فقال: إذا أنا مت، فبع هذا المر، واغسل جبتي هذه الصوف وهذا المئزر وكفني بهما، وافتق جيب الجبة فإن فيها خاتما، وانظر يوم يركب هارون الخليفة، فقف له في موضع يراك، فكلمه وأره الخاتم؛ فإنه سيدعو بك، فسلم إليه الخاتم، ولا يكون هذا إلا بعد دفني، قلت: نعم.

فلما مات: فعلت به ما أمرني، ثم نظرت اليوم الذي يركب فيه الخليفة، فجلست له على الطريق، فلما مر ناديته: يا أمير المؤمنين، لك عندي وديعة، ولوحت بالخاتم، فأخذت وحملت إلى داره، ثم دعاني ونحى جميع من كان عنده وقال: من أنت؟ قلت: عبد الله بن الفرج، قال: من أين لك هذا الخاتم؟ فحدثته قصة الشاب، فجعل يبكي حتى رحمته، فلما أنس قلت: يا أمير المؤمنين، من هو منك؟ قال: ابني، قلت كيف صار إلى هذه الحال؟ قال: ولد لي قبل أن أبتلى بالخلافة، فنشأ نشوءا حسنا، وتعلم القرآن والعلم، فلما وليت الخلافة، تركني ولم ينل من دنياي، فدفعت إلى أمه هذا الخاتم وهو ياقوت يساوي مالا كثيرا، فقلت: تدفعينه إلى ابنك -وكان بارا بها- وتسألينه أن يكون معه، فلعله أن يحتاج إليه يوما من الأيام فينتفع به، وتوفيت أمه، فما عرفت له خبرا إلا ما أخبرتني به أنت.

ثم قال: إذا كان الليل فأخرج معي إلى قبره، فلما كان الليل خرجت معه وحده، حتى أتينا قبره وهو يمشي، فجلس فبكى بكاء شديدا، فلما طلع الفجر قمنا، فرجع ثم قال: تعاهدتي في هذه الأيام حتى أزور قبره. فكنت أتعاهده في الليل، فيخرج يزوره ثم يرجع.قال عبد الله بن الفرج: ولم أعلم أنه ابن الرشيد حتى أخبرني الخليفة أنه ابنه .

وقيل : إن عبد الله بن الفرج نقله إلى منزله، وإنه لما احتضر، دفع إليه الخاتم وقال: إذا مت ودفنتني فخذ هذا الخاتم وادفعه إلى أمير المؤمنين هارون، وقل له: يقول لك صاحب هذا الخاتم: احذر أن تموت على سكرتك؛ فإنك إن مت عليها ندمت.فلما دفنته وقفت لهارون وأخرجت الخاتم، فلما نظر إليه عرفه وقال: من أين لك هذا؟ فقلت: دفعه إلي رجل طيان، فقال: طيان طيان؟ ! فقربني منه، وقلت: إنه أوصاني بوصية وقال: إذا رفعت إليه الخاتم قل له: أحذر أن تموت على سكرتك هذه؛ فإنك إن مت عليه، ندمت. فلما سمع لك، قام قائما على رجليه وضرب بنفسه على البساط، وجعل يتقلب ويقول: يا بني، نصحت.

ثم جلس، وجاؤوا بماء فمسحوا وجهه، وقال: هيه. فحدثته الحديث وهو يبكي، فقال: هذا أول مولود ولد لي، بصرت بأمه فتزوجت بها سرا من أبي، فأولدتها هذا المولود، وأحدرتها إلى البصرة، وأعطيتها هذا الخاتم وأشياء، وقلت: اكتمي نفسك، فلما وليت الخلافة سألت عنهما، فذكر لي أنهما ماتا، ولم أعلم أنه باق، فأين دفنته فقلت: في مقابر عبد الله بن مالك، فقال: إذا كان وقت المغرب فقف لي على الباب، فوقفت، فخرج لي متنكرا، فجئت به إلى قبره، فما زال يبكي ليله ويدير رأسه ولحيته على قبره ويقول: يا بني، نصحت أباك؛ حتى طلع الفجر، فقلت: أصبحت يا أمير المؤمنين، فقال: قد أمرت لك بعشرة آلاف درهم، واكتب عيالك مع عيالي؛ فقد وجب علي حقك بدفنك ولدي، وأخذ بيدي ومشينا إلى القصر، فلما بلغ الباب قال: انظر ما أوصيك به، إذا طلعت الشمس فقف لي حتى أدعوك فتحدثني حديثه، قلت. إن شاء الله. فما عدت إليه بعد ذلك"۔

(السنة الرابعة والثمانون بعد المئة، فصل وفيها توفي، 62-59/13، ط:دار الرسالة العالمية، دمشق)

وفیات الأعیان لابن خلکان (شمس الدین أحمد بن محمد ابن خلکان ت 681ھ) میں ہے:

"ابن الرشيد:

أبو العباس أحمد بن هارون الرشيد بن المهدي بن المنصور الهاشمي المعروف بالسبتي؛ كان عبداً صالحاً، ترك الدنيا في حياة أبيه مع القدرة، ولم يتعلق بشيء من أمورها، وأبوه خليفة الدنيا، وآثرالانقطاع والعزلة، وإنما قيل له السبتي لأنه كان يتكسب بيده في يوم السبت شيئاً ينفقه في بقية الأسبوع، ويتفرغ للاشتغال بالعبادة، فعرف بهذه النسبة، ولم يزل على هذه الحال إلى أن توفي سنة أربع وثمانين ومائة قبل موت أبيه، رحمهما الله تعالى؛ وأخباره مشهورة، فلا حاجة إلى التطويل فيها، وذكره ابن الجوزي في شذور العقود وفي صفوة الصفوة وهو مذكور في كتاب " التوابين " وفي " المنتظم " أيضا"

(حرف الھمزہ، ابن الرشید، 168/1، ط: دار صادر-بیروت)

البدایہ و النہایہ میں ہے:

"ثم دخلت سنة أربع وثمانين ومائة،۔۔۔

‌‌وفيها توفى:‌‌أحمد بن الرشيد؛

كان زاهدا عابدا قد تنسك، وكان لا يأكل إلا من عمل يده في الطين، كان يعمل فاعلا فيه، وليس يملك إلا مروا وزنبيلا- أي مجرفة وقفة- وكان يعمل في كل جمعة بدرهم ودانق يتقوت بهما من الجمعة إلى الجمعة، وكان لا يعمل إلا في يوم السبت فقط. ثم يقبل على العبادة بقية أيام الجمعة.

وكان من زبيدة في قول بعضهم، والصحيح أنه من امرأة كان الرشيد قد أحبها فتزوجها فحملت منه بهذا الغلام، ثم إن الرشيد أرسلها إلى البصرة وأعطاها خاتما من ياقوت أحمر، وأشياء نفيسة، وأمرها إذا أفضت إليه الخلافة أن تأتيه. فلما صارت الخلافة إليه لم تأتى ولا ولدها، بل اختفيا، وبلغه أنهما ماتا، ولم يكن الأمر كذلك، وفحص عنهما فلم يطلع لهما على خبر، فكان هذا الشاب يعمل بيده ويأكل من كدها، ثم رجع إلى بغداد، وكان يعمل في الطين ويأكل مدة زمانية. هذا وهو ابن أمير المؤمنين، ولا يذكر للناس من هو إلى أن اتفق مرضه في دار من كان يستعمله في الطين فمرضه عنده، فلما احتضر أخرج الخاتم وقال لصاحب المنزل: ذاهب بهذا إلى الرشيد وقل له: صاحب هذا الخاتم يقول لك: إياك أن تموت في سكرتك هذه فتندم [حيث لا ينفع نادما ندمه، واحذر انصرافك من بين يدي الله إلى الدارين، وأن يكون آخر العهد بك، فان ما أنت فيه لو دام لغيرك لم يصل إليك، وسيصير إلى غيرك، وقد بلغك أخبار من مضى]."

(سنة أربع وثمانين ومائة ، و فیھا توفی، 184/10، ط:مطبعة السعادة، القاهرة)

حاشیۃ المعلمی علی  الإکمال لابن ماکولا  میں ہے:

"و فى الأنساب «[وأما] السبتى بفتح السين المهملة وسكون الباء المنقوطة بواحدة وفى آخرها التاء المنقوطة باثنتين من فوقها [فان] هذه النسبة الى السبت وهو أول يوم من الأسبوع … » قال فى اللباب «فالمنتسب الى اليوم(..بياض..) السبتى وقبره مشهور ببغداد يزار، وإنما نسب كذلك لأنه كان يعمل يوم السبت بما يتقوت به باقى الأسبوع فنسب إليه» وفى القبس بعد حكاية ما فى اللباب ما لفظه «وبخط ابن خلكان (يعنى بهامش نسخة اللباب): كذا بيض له المصنف فى النسخة التى بخطه؛ والشخص المشار اليه هو أبو العباس أحمد بن هارون الرشيد، عبد صالح ترك الدنيا فى حياة أبيه فذم ولايته ولم يتعلق منها بشئ وكان يتكسب بيده فى يوم السبت ويتقوته فى بقية الأسبوع ويتفرغ للعبادة فسمى السبتى وتوفى سنة ثلاث وثمانين ومائة-ذكره ابن الجوزى فى صفة الصفوة» قال المعلمى قصته فى صفة الصفوة 2/ 174 ذكرها من وجهين وقال إن رواة الأول ثقات والله أعلم".

(مشتبه النسبة من هذا الحرف، ‌‌باب السنى والسنى والتسنى والشبى والبسى، 500/4، ت:عبد الرحمن المعلمي،ط:دائرة المعارف العثمانية، الهند)

روح البیان (إسماعيل حقي بن مصطفى الإستانبولي ت: 1147ھ)میں ہے:

" حكى- انه كان لهارون الرشيد ولد فى سن ست عشرة سنة فزهد فى الدنيا واختار العباء على القباء فمر يوما على الرشيد وحوله وزراؤه فقالوا لقد فضح هذا الولد امير المؤمنين بين الملوك بهذه الهيئة فدعاه هارون الرشيد وقال يا بنى لقد فضحتنى بحالك فلم يجبه الولد ثم التفت فرأى طيرا على حائط فقال ايها الطائر بحق خالقك ألا جئت على يدى فقعد الطائر على يده ثم قال ارجع الى مكانك فرجع ثم دعاه الى يد امير المؤمنين فلم يأت فقال لابيه بل أنت فضحتنى بين الأولياء بحبك للدنيا وقد عزمت على مفارقتك ثم انه خرج من بلده ولم يأخذ الا خاتما ومصحفا ودخل البصرة وكان يعمل يوم السبت فى الطين ولا يأخذ الا درهما ودانقا للقوت قال ابو عامر البصري استأجرته يوما فعمل عمل عشرة وكان يأخذ كفا من الطين ويضعه على الحائط ويركب الحجارة بعضها على بعض فقلت هذا فعال الأولياء فانهم معانون ثم طلبته يوما فوجدته مريضا فى خربة فقال:

يا صاحبى لا تغترر بتنعم … فالعمر ينفد والنعيم يزول

وإذا حملت الى القبور جنازة … فاعلم بانك بعدها محمول

ثم وصانى بالغسل والتكفين فى جبته فقلت يا حبيبى ولم لا أكفنك فى الجديد فقال الحي أحوج الى الجديد من الميت يا أبا عامر الثياب تبلى والأعمال تبقى ثم ادفع هذا المصحف والخاتم الى الرشيد وقل له يقول لك ولدك الغريب لا تدومن على غفلتك قال ابو عامر فقضيت شانه ودفعت المصحف والخاتم الى الرشيد وحكيت ما جرى فبكى وقال فيم استعملت قرة عينى وقطعة كبدى قلت فى الطين والحجارة قال استعملته فى ذلك وله اتصال برسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت ما عرفته قال ثم أنت غسلته قلت نعم فقبل يدى وجعلها على صدره ثم زار قبره ثم رأيته فى المنام على سرير عظيم فى قبة عظيمة فسألته عن حاله فقال صرت الى رب راض أعطاني ما لا عين رأت ولا اذن سمعت ولا خطر على قلب بشر وآلى على ذاته ونفسه الشريفة اى قال بالله الذي خلقنى لا يخرج عهد من الدنيا كخروجى الا أكرمه مثل كرامتى."

(سورۃ الکهف، آیة:9، 217-218/5، ط: دار الفکر-بیروت)

الأعلام للزرکلی (خیر الدین الزرکلی ت1396ھ) میں ہے:

" ‌‌ابن الرَّشِيد (000 - 209 هـ= 000 - 824 م):

أحمد بن هارون الرشيد العباسي، أبو عيسى: شاعر، من آل عباس. كان من أجمل الناس وجها. وهو أخو الأمين والمأمون.  أورد الصولي نماذج رقيقة من شعره، وقال: كان يحب صيد الخنازير، فوقع عن دابته وأصيب دماغه فمات من أثر ذلك. (2)۔۔۔۔

قال المحشی: (2) أشعار أولاد الخلفاء 88 - 94 وفيه: لما مات أبو عيسى صلى على المأمون؟، وامتنع عن الطعام أياما. وفي وفيات الأعيان 1: 53 أن أبا عيسى زهد في الدنيا، وكان يتكسب بيده يوم السبت ما ينفقه في بقية الأسبوع، فلقب بالسبتي، وذكر وفاته سنة 184هـقبل موت أبيه.ومثله في النجوم الزاهرة 2: 116 وزاد على ما في الوفيات قوله: (وله أيضا حكايات كثيرة في الزهد والصلاح، على أن بعض أهل تاريخ ينكرون ذلك بالكلية)."

(حرف الألف، أح، ابن الرشید، 265/1، ط:دار العلم للملایین ، الطبعة الخامسة عشر)

تاریخ الاسلام للذہبی (شمس الدین محمد الذہبی ت: 748ھ) میں ہے:

" أبو أحمد بن هارون الرشيد. كان آخر أولاد أبيه موتا توفي في خلافة ابن أخيه المعتز بالله سنة أربع وخمسين".

(‌‌الطبقة السادسة والعشرون ، ‌‌رجال هذة الطبقة على ترتيب المعجم ، حرف الألف 278 /19، ط:المكتبة التوفيقية)

الکامل فی التاریخ (ابن الأثیر  ت 630ھ)میں ہے:

"ذكر نسائه وأولاده:۔۔۔۔

وكان قد ولد له من الذكور: محمد الأمين من زبيدة، وعبد الله المأمون لأم ولد اسمها مراجل، والقاسم المؤتمن، وأبو إسحاق محمد المعتصم، وصالح، وأبو عيسى محمد، وأبو يعقوب محمد، وأبو العباس محمد، وأبو سليمان محمد، وأبو علي محمد، وأبو محمد، وهو اسمه، وأبو أحمد محمد، كلهم لأمهات أولاد."

(سنة ثلاث وتسعين ومائة، ذكر موت الرشيد، 396/5، ت تدمری، ط:دار الكتاب العربي، بيروت)

البدایہ و النہایہ میں ہے:

"‌‌ذكر زوجاته وبنيه وبناته:۔۔۔۔

وأما أولاده الذكور فمحمد الأمين بن زبيدة، وعبد الله المأمون من جارية اسمها مراجل، ومحمد أبو إسحاق المعتصم من أم ولد يقال لها ماردة، والقاسم المؤتمن من جارية يقال لها قصف. وعلي أمه أمة العزيز. وصالح من جارية اسمها رئم. ومحمد أبو يعقوب، ومحمد أبو عيسى، ومحمد أبو العباس، ومحمد أبو علي كل هؤلاء من أمهات أولاد۔۔۔۔الحاشیة: زيد في الطبري في أولاده الذكور: محمد أبو سليمان أمه رواح، ومحمد أبو أحمد أمه كتمان."

(سنة ثلاث وتسعين ومائة، وفيها توفي الرشید، ترجمته، 241/10، تعلي شيري،ط:دار إحياء التراث العربي) 

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144504102109

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں