بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 محرم 1446ھ 22 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

حدیث خیر القرون قرني کی تحقیق


سوال

"خیرُ القرون قَرنیْ، ثمّ الذین یلونَھم ،ثمّ الذین یلونَھم".بعینہ یہی الفاظ صحاح یا حدیث کی کسی اور کتاب میں دریافت فرما کر رہنمائی  فرمائیں ۔

جواب

سوال میں مذکور الفاظ کے متعلق  شیخ عبد الفتاح ابو غدہ رحمہ اللہ   "الأجوبة الفاضلة للأسئلة العشرة الكاملة"کی تعلیقات میں  لکھتے ہیں:"هذا اللفظُ(أيْ: خيرُ القرون قَرنيْ) لم أجدْه في الصّحيحن، أو غيرِهما مما رجعتُ إليه من المصادر الحديثيّة".(یہ الفاظ (یعنی"خیرُ القرون قَرنیْ""صحيحين"(بخاری ومسلم)  ،اوران کے علاوہ  دیگر حدیثی مصادر   کی مراجعت  کےدوران مجھے نہیں مل سکے)۔

البتہ ان کے قریب قریب مختلف  الفاظ حدیث کی کتابوں   میں  مذکورہیں،چنانچہ "صحيحين"میں یہ روایت  درج ذیل  مختلف الفاظ  سے مذکور ہے:

۱۔حدّثنا آدم، حدّثنا شعبة، حدّثنا أبو جَمرة، قال: سمعتُ زهدم بنَ مُضرِّب، قال: سمعتُ عمران بنَ حُصين -رضي الله عنهما-، قال: قال النبيّ -صلّى الله عليه وسلّم-: خيرُكم قرنيْ، ثم الذين يلونَهم، ثم الذين يلونَهم ... إلخ".

(صحيح البخاري، كتاب الشهادات، باب لايشهد على شهادة جور إذا أُشهد، 3/171، رقم الحديث:2651، ط:دار طوق النجاة/صحيح مسلم، كتاب الفضائل، باب فضل الصحابة، 4/1964، رقم الحديث:2535، ط:دار إحياء التراث العربي)

ترجمہ:

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:تم میں سب سے بہترین لوگ  میرے زمانے کے لوگ ہیں،پھروہ جوان کے قریب ہوں،پھر وہ جوان کے قریب ہوں۔

۲۔"حدثّنا محمد بنُ كثير، أخبرنا سفيانُ  عن منصورٍ عن إبراهيمَ  عن عَبِيدة عن عبد الله -رضي الله عنه- عن النبيّ -صلّى الله عليه وسلّم- قال: خيرُ الناس قرنيْ، ثمّ الذين يلونَهم، ثمّ الذين يلونَهم ... إلخ".

(صحيح البخاري، كتاب الشهادات، باب لايشهد على شهادة جور إذا أُشهد، 3/171، رقم الحديث:2652/صحيح مسلم، كتاب الفضائل، باب فضل الصحابة، 4/1963، رقم الحديث:2533)

ترجمہ:

حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:لوگوں میں سب سے بہترین میرے زمانے کے لوگ ہیں،پھر وہ جوان کے قریب ہوں، پھر وہ جو ان کے قریب ہوں۔

۳۔"حدّثني إسحاق، حدّثنا النضر، أخبرنا شعبةُ عن أبي جَمرة، سمعتُ زهدم بنِ مُضرِّب، سمعتُ عمران بنَ حُصين -رضي الله عنهما-، يقول: قال رسولُ الله -صلّى الله عليه وسلّم-: خيرُ أمّتيْ قرنيْ، ثمّ الذين يلونَهم، ثمّ الذين يلونَهم ... إلخ".

(صحيح البخاري، كتاب المناقب، باب فضائل أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم، 5/2، رقم الحديث:3650، ط:دار طوق النجاة)

ترجمہ:

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:میری امت میں سب سے بہترین لوگ  میرے زمانے کے لوگ ہیں، پھروہ  جوان کے قریب ہوں ،پھروہ جو ان کے قریب ہوں۔

۴۔"حدّثنا سعد بن حفص، حدّثنا شيبان عن منصورٍ عن إبراهيمَ عن عَبِيدة، عن عبد الله۔رضي الله عنه-، قال: سُئل النبيّ -صلّى الله عليه وسلّم-: أيُّ الناس خير؟ قال: قرنيْ، ثمّ الذين يلونهم، ثمّ الذين يلونهم ... إلخ".

(صحيح البخاري، كتاب الأيمان والنذور، باب إذا قال: أشهد بالله أو شهدتُ بالله، 8/134، رقم الحديث:6658/صحيح مسلم، كتاب الفضائل، باب فضل الصحابة 4/1963، رقم الحديث:2533)

ترجمہ:

حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھاگیا:لوگوں میں سب سے بہترین لوگ کون ہیں؟آپ صلی اللہ علیہ  وسلم نے فرمایا:میرے  زمانے کے لوگ(لوگوں میں سب سے بہترین ہیں)،پھر وہ جو ان کے قریب  ہوں،پھر وہ  جو ان کے قریب ہوں۔

۵۔"حدّثنا قُتيبة بنُ سعيد، وهنّاد بنُ السري، قالا: حدّثنا أبو الأحوص عن منصورٍ عن إبراهيم بنَ يزيد عن عَبِيدة السَّلماني عن عبد الله-رضي الله عنه-، قال: قال رسولُ الله -صلّى الله عليه وسلّم-: خيرُ أمّتي القرنُ الذين يلُوني، ثمّ الذين يلونهم ثمّ الذين يلونهم ... إلخ".

(صحيح مسلم، كتاب الفضائل، باب فضائل الصحابة، 4/1962، رقم الحديث:2533)

ترجمہ:

حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:میری امت میں سب سے بہترین  اس زمانے کے لوگ ہیں  جو مجھ  سے قریب ہے،پھر وہ جو ان سے قریب ہوں، پھر وہ جوان کے قریب ہوں۔

۶۔"حدّثني يعقوب بنُ إبراهيم، حدّثنا هشيم عن أبي بِشرٍ، ح وحّدثني إسماعيل بنُ سالم، أخبرنا هُشيمٌ، أخبرنا أبو بِشرٍ عن عبد الله بنِ شقيق عن أبي هريرة-رضي الله عنه-، قال: قال رسولُ الله -صلّى الله عليه وسلّم-: خيرُ أمّتي القرنُ الذين بُعثتُ فيهم، ثمّ الذين يلونهم. والله أعلم أذكر الثالث أم لا ... إلخ".

(صحيح مسلم، كتاب الفضائل، باب فضائل الصحابة، 4/1963، رقم الحديث:2534)

ترجمہ:

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت   ہے  کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:میری امت میں سب سے بہترین  اس زمانے  کے لوگ ہیں جن میں ،میں  بھیجا گیا ہوں،پھر  وہ جو ان سے قریب ہوں،(راوی  کو شک ہے کہ آپ نے تیسرے زمانے کےلوگوں کا ذکر فرمایا تھا، اس لیے فرمارہے ہیں ):  اللہ تعالی زیادہ بہتر جانتا ہے کہ (اس کے بعد)آپ نے تیسرے زمانے کےلوگوں کا ذکر فرمایا تھا یانہیں۔

۷۔وحدّثنا قُتيبة بنُ سعيد ومحمد بنُ عبد الملك الأمويُّ، قالا: حدّثنا أبو عَوانة، ح وحدّثنا محمد بنُ المثنّى، وابنُ بشارٍ، قالا: حدّثنا معاذ بنُ هشامٍ، حدثنا أبيْ، كلاهما عن قتادة عن زُرارة بنِ أوفى عن عمران بنِ حُصين۔رضی اللہ عنہما۔، عن النبيّ ۔صلّى الله عليه وسلّم۔، بِهذا الحديث: خيرُ هذه الأمّة القرنُ الذين بُعثتُ فيهم، ثمّ الذين يلونهم . زاد في حديث أبي عَوانة، قال: واللهُ أعلم، أذكر الثالث أم لا، بِمثل حديث زهدمٍ".

(صحيح مسلم، كتاب الفضائل، باب فضائل الصحابة، 4/1965، رقم الحديث:2535)

ترجمہ:

حضرت عمر ان بن حصین رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث روایت کرتے ہیں:اس امت میں سب سے بہترین لوگ اس زمانے کے لوگ ہیں جن میں، میں بھیجاگیاہوں،پھر وہ جوان سے قریب ہوں۔ابوعوانہ کی حدیث میں بھی زہدم کی حدیث کی طرح  اس کے بعد  یہ  اضافہ  ہےکہ آپ نے فرمایا:اللہ تعالی زیادہ بہتر جانتا ہے کہ آپ نے تیسرے زمانہ کے لوگوں کا ذکر فرمایا تھا یانہیں۔

مسند أحمد، سنن الترمذي، المستدرك للحاكمودیگر کتبِ حدیث میں  بھی صحيحين کی طرح یہ روایت مختلف الفاظ سے مروی ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ"خیرُ القرون قَرنیْ"کے الفاظ تو حدیث سے ثابت نہیں ہیں،البتہ اس کے قریب قریب مختلف الفاظ احادیث مبارکہ میں موجود ہیں، اس لیے خطبہ جمعہ ،ودیگر مواقع پر احادیث مبارکہ  سے ثابت شدہ الفاظ کو پڑھنے اور بیان کرنے کا اہتمام کرناچاہیے۔

" الأجوبة الفاضلة لللأسئلة العشرة الكاملة"میں ہے:

"هذا اللفظُ (أيْ: خيرُ القرون قَرنيْ) لم أجدْه في الصّحيحن، أو غيرِهما مما رجعتُ إليه من المصادر الحديثيّة".

(الأجوبة الفاضلة، التلعيقات الحافلة على الأجوبة الفاضلة، ص:27، ط:مكتب المطبوعات الإسلامية)

"شرح صحيح البخاري لابن بطال"میں ہے:

"قوله (صلّى الله عليه وسلمّ) : (خيرُكم قرنىْ، ثمّ الذين يلونهم، ثمّ الذين يلونهم) لأنّه يفتحُ لهم لِفضلِهم، ثمّ يفتحُ لِلتابِعين لِفضلِهم، ثمّ يفتحُ لِتابعِيهم لِفضلِهم، وأوجبَ الفضل لِثلاثة القرُون، ولم يذكر الرابعَں ولم يذكر فضلاً، فالنصرُ فيهم أقلُّ، واللهُ أعلم".

(شرح صحيح البخاري لابن بطال، كتاب الجهاد، باب من استعان بالضعفاء والصالحين في الحرب، 5/91، ط:مكتبة الرشد-الرياض)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144201201228

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں