بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

’’خير الكلام ما قلّ ودلّ‘‘ حدیث ہے یا مقولہ ؟


سوال

"خیرُ الکلام ما قلّ ودلّ"حدیث ہے یاعربی مقولہ ہے؟

جواب

سوال میں آپ نے جو الفاظ(خَيْرُ الْكَلَامِ مَا قَلَّ وَدَلَّ) ذکر کرکے ان کے بارے میں دریافت کیا ہے، حدیث کی کتابوں میں تلاش کے باوجود ہمیں ان الفاظ سے کوئی  مرفوع حدیث  نہیں ملی، نہ ہی کتبِ تراجم میں ان الفاظ سے  سلفِ صالحین  میں سے کسی  کا قول ملا ، البتہ فقہاء کرام  رحمہم اللہ میں سے علامه امیر بادشاہ حنفي (متوفی: ۹۷۲ھ)،  علامہ ماوردی شافعی(متوفی:۴۵۰ھ)نے ان الفاظ کو حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما  کے قول کی حیثیت سے ذکر کیا ہے، جب کہ علامہ مَرْوَرُّوْْذِی(۴۶۲ھ)، علامہ  ابنِ ضویان حنبلی(متوفی:۱۳۵۳ھ)، علامہ منصور بن یونس البہوتی الحنبلی(متوفی:۱۰۵۱ھ)، علامہ ابنِ قاسم العاصمی الحنبلی(متوفی:۱۳۶۲ھ)،علامہ  احمد بن عبد اللہ البعلی الحنبلی (متوفی: ۱۱۸۹ھ)، علامہ  عثمان بن عبد اللہ حنبلی (متوفی: ۱۲۴۰ھ)   نےاسےحضرت علی بن ابی طالب   رضی اللہ عنہ کے قول کی حیثیت سے بیان کیا ہے،اورعلامہ رویانی شافعی(متوفی :۵۰۲ھ) دونوں  حضرات کی طرف منسوب  کرکے یوں ذکرکیا ہے:

"وقال عليُّ بنُ أبي طالبٍ والحسنُ بنُ عليِِّ - رضي الله عنهما -:خَيْرُ الْكَلَامِ مَا قَلَّ وَدَلَّ وَلَمْ يَطُلْ فَيَمَلَّ".

(بحر المذهب، المقدمة، 1/27، ط: دار الكتب العلمية)

ترجمہ:

’’(حضرت) علی بن ابی طالب اور(حضرت)  حسن بن علی رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:بہترین کلام وہ ہے جو  کم ہو اور (مقصود کی  طرف)راہ نمائی کردے، اتنا طویل نہ ہو  کہ  طبیعت اکتاجائے‘‘۔

مذکورہ تفصیل سے معلوم ہوا کہ "خَيْرُ الْكَلَامِ مَا قَلَّ وَدَلَّ وَلَمْ يَطُلْ فَيَمَلَّ"(بہترین کلام وہ ہے جو  کم ہو اور (مقصود کی  طرف)راہ نمائی کردے، اتنا طویل نہ ہو  کہ  طبیعت اکتاجائے) کے الفاظ  مرفوع حدیث سے ثابت نہیں ہیں، لہذا اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرکے یبان کرنے سے  احتراز کیاجائے۔البتہ یہ  حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ،یاحضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما میں سے   کسی کا قول ہے،  تلاش کے باوجود دونوں  حضرات میں سے متعین طور پر کسی ایک کاقول ہونا ہمیں نہیں معلوم سکا، اس لیے اسے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ، یا حضرت  حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے قول کی حیثیت سے بیان کیاجاسکتا ہے۔

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144503103030

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں