بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 جُمادى الأولى 1444ھ 29 نومبر 2022 ء

دارالافتاء

 

خیرات کا بہتر طریقہ


سوال

ہمارا سوال یہ ہے کہ ہمارے علاقے میں رواج یہ ہے کہ ہم لوگ خیرات کرتے وقت دیگیں یعنی چاول پکاتے ہیں کوئی خاص دن کی تعین نہیں کرتے کسی بھی وقت خیرات کردیتے ہیں۔۔مگرہمیں کسی نے کہا کہ آپ لوگ خیرات ایسے کرتے ہیں اس میں غریب و مالدار سب شرکت کرتے ہیں جبکہ محتاج زیادہ غریب ہیں ۔دوسری بات یہ ہے کہ لوگ چاول کھاتے ہیں مگر گھر میں پھر کھانا کھاتے ہیں آپ لوگوں کو صرف انجوائے منٹ کراتے ہیں انہوں نے طریقہ یہ بتایا کہ آپ اگر خیرات کرنا چاہتے ہیں تو کسی غریب گھر کو پہلے سے بتائیں کہ ہم آپکے لئے آج کھانا بھیج دییں گے آ پ کھانا نہ پکائیں۔۔تو کیا یہ طریقہ درست ہے یا ہمارا پرانا والا طریقہ؟

جواب

خیرات کا معنی ہے: نیکی اور بھلائی کے کام کرنا۔ ہمارے عرف اس کا عام اطلاق صدقہ نافلہ پر ہوتا ہے یعنی جو مال اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے کسی خیر کے کام میں خرچ کیا جائے وہ صدقہ و خیرات کہلاتا ہے؛لھذا صورت مسئولہ میں اگر زکاۃ اور واجب صدقات(مثلا  صدقہ فطر   اور نذر وغیرہ  )کے علاوہ رقم سے یہ کھانا پکایا جاتا ہے تو اس میں مذکورہ  دونوں طریقہ کار شرعا جائز ہیں، البتہ چونکہ غریب محتاج لوگوں کو دینے  اور ان کے گھروں پر بھیجنے کی صورت میں ان کا زیادہ فائدہ ہےاس لئے اس صورت میں انفع للفقراء  ہونے کی بنا پر دوسرا طریقہ اختیار کرنا  زیادہ افضل ہوگا۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"وأما صدقة التطوع فیجوز صرفها إلی الغنی لأنها تجري مجری الهبة".

(كتاب الزكاة،فصل ركن الزكاة،47/2، ط: دار الکتب العلمیۃ)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144311100200

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں