بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 محرم 1446ھ 13 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

کھڑے ہوکر پیشاب کرنا


سوال

کھڑے ہو کر استنجاء کرنا اس کے متعلق اسلامی تعلیمات اور ہدایات کیا ہیں؟

جواب

واضح رہے کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی عام عادتِ شریفہ نہ کہ خود  بیٹھ کر پیشاب کرنے کی تھی، بلکہ  آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم  نے صحابہ کرام کو بھی بیٹھ کر پیشاب کرنے کی تعلیم فرمائی ہے، کیوں کہ کھڑے ہو کر  پیشاب کرنا  مروت ووقار اور اسلامی تہذیب کے خلاف ہے، نیز اِس میں کشفِ عورت،  اور بدن اور کپڑوں کے پیشاب میں ملوث ہونے کا زیادہ احتمال ہوتا ہے، جبکہ پیشاب کے چھینٹوں سے بچنے کے اہتمام کی تاکید احادیث مبارکہ میں آئی ہے، جس کی وجہ سے  بلا عذر  کھڑے ہوکر پیشاب کرنے کو فقہاء کرام نے مکروہ قرار دیا ہے،  تاہم موجودہ زمانے میں  بلاعذر کھڑے ہوکر  پیشاب کرنا چونکہ   غیر مسلموں کا عام معمول بن چکا ہے، جس کی وجہ سے حضرت بنوری رحمہ اللہ نے معارف سنن شرح سنن الترمذي  میں اسے مکروہ تحریمی لکھا  ہے، لہذا صورت مسئولہ میں  کسی عذر کے بغیر کھڑے ہوکر پیشاب کرنے سے اجتناب کرنا  چاہیے،   نیز موجودہ زمانے میں کموڈ کی سہولت چونکہ موجود ہے، لہذا کسی بیماری کے سبب اگر زمین پر بیٹھنے میں دشواری ہو تو کھڑے ہر کر پیشاب کرنے کے بجائے کموڈ استعمال کرنا چاہیے۔

سنن الترمذي میں ہے:

١٢۔" عن عائشة رضي الله عنها قالت: «من حدثكم أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يبول قائما فلا تصدقوه»، ما كان يبول إلا قاعدا."

 ترجمہ:" ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا فرماتی ہیں کہ: " جو تم سے یہ کہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کھڑے ہو کر پیشاب کرتے تھے تو تم اس کی تصدیق نہ کرنا، آپ بیٹھ کر ہی پیشاب کرتے تھے۔"

"عن نافع، عن ابن عمر، عن عمر قال: رآني النبي صلى الله عليه وسلم أبول قائما، فقال: يا عمر، لا تبل قائما، فما بلت قائما بعد."

ترجمہ:" حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پیشاب کرتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: "عمر! کھڑے ہو کر پیشاب نہ کرو"، چنانچہ اس کے بعد سے میں نے کبھی بھی کھڑے ہو کر پیشاب نہیں کیا۔"

"عن عبد الله بن مسعود قال: إن من الجفاء أن تبول وأنت قائم."

ترجمہ: "حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ فرماتے ہیں کہ: پھوہڑ پن، اور کم عقلی کے کاموں میں سے یہ ہے کہ: تم کھڑے ہو کر پیشاب کرو۔"

( أبواب الطهارة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، باب النهي عن البول قائما، ١ / ٦٠، ط: دار الغرب الإسلامي - بيروت)

حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاحمیں ہے:

"البول قائما" لتنجسه غالبا "إلا من عذر" كوجع بصلبه 

قوله: "ويكره البول قائما" قال في شرح المشكاة قيل النهي للتنزيه وقيل للتحريم وفي البناية قال الطحاوي لا بأس بالبول قائما اهـ قوله: "لتنجسه غالبا" أي لتنجس الشخص به ولأنه من الجفاء كما ورد قوله: "إلا من عذر" روي أنه عليه الصلاة والسلام بال قائما لجرح في باطن ركبته لم يتمكن معه من العقود وقيل لأنه لم يجد مكانا طاهرا للعقود لامتلاء الموضع بالنجاسات وقيل لوجع كان بصلبه الشريف فإن العرب تستشفي لوجع الصلب بالبول قائما كما قاله الشافعي وقال الغزالي في الإحياء قال زين العرب أجمع أربعون طبيبا على أن البول في الحمام قائما دواء من سبعين داء."

( كتاب الطهارة، فصل فيما يجوز به الاستنجاء وما يكره به وما يكره فعله ،ص: ٥٤، ط: دار الكتب العلمية بيروت - لبنان)

معارف السنن للبنوری میں ہے:

 " إن البول قائماً وإن کانت فیه رخصة، والمنع للتأدیب لا للتحریم، کما قاله الترمذي، ولٰكن الیوم الفتوٰي علٰي تحریمه أولٰی حیث أصبح شعاراً لغیر المسلمین من الکفار و أهل الأدیان الباطلة." 

(باب النهي عن البول قائماً، ١ / ١٠٦، ط: مجلس الدعوة و التحقيق بجامعةالعلوم الإسلامية )

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144403100683

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں