بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو القعدة 1445ھ 26 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

کھانے پر فاتحہ پڑھنے کا حکم


سوال

میں اپنے مرحومین والدین کے پیچھے ہر جمعرات کو فاتحہ دیتا ہوں۔ ہر جمعرات حسب توفیق جو بھی اللہ تعالیٰ نے عطا فرما دیا ۔ اس پر فاتحہ دیتا ہوں۔ فاتحہ کے بعد ان کے ایصال ثواب کے لیے کون کون سی سورتوں کا اہتمام کرو ۔ اور ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا ثواب کیسے پہنچائیں ۔ اور بعد فاتحہ کہ یہ سب بہن بھائی یہ کھا سکتے ہیں۔ کہ نہیں ۔ میرے مرحومین والدین کے لیے دعا لازمی کرے۔

جواب

واضح رہے کہ فاتحہ کا جو طریقہ آج کل رائج ہے کہ مخصوص ایام میں کھانے پر فاتحہ پڑھ کر کسی کو دینا، یہ نہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے، نہ ہی صحابہ کرام سے منقول ہے، بل کہ فاتحہ کا یہ مروجہ طریقہ بدعت ہے، اور اس طرح کے مواقع پر تیار کردہ کھاناکھانے سے اجتناب کرنا چاہیے، اور بنانے سے بھی۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں فاتحہ خوانی کا مذکورہ مروجہ طریقہ اختیار نہ کیاجائے،بلکہ سائل کے مرحوم والدین کو ثواب پہنچانے کے لیے بہتر طریقہ یہ ہے کہ کسی دن یا تاریخ کا اہتمام کیے بغیر فقراء اور غرباء کو اس نیت سے کھانا کھلادیا جائے کہ اس کا ثواب مرحوم والدین کو پہنچے،یا پھر قرآن مجید کاکچھ حصہ پڑھ کر ان کو ایصالِ ثواب کردیا جائے۔

امداد الفتاوی میں ہے:

"تیجہ، دسواں، چالیسواں وغیرہ سب بدعت کے قبیل سے ہیں اور ہندوستانی کافروں کے رسوم و رواج سے دَر آئی ہیں، اور کھانا سامنے رکھ کر جو کچھ پڑھتے ہیں یہ بھی ہندؤں کا طریقہ ہے، اس قسم کی رسومات کو ترک کرنا لازم ہے؛ کیوں کہ ’’من تشبه بقوم الخ‘‘جو کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے گا وہ انہیں میں سے شمار ہوگا، اور جب کھانے کے ساتھ اس قسم کی بدعتیں بھی ہونے لگیں تو بہتر یہ ہے کہ ایسا کھانا نہ کھایا جائے؛ کیوں کہ حدیث میں ہے’’دع ما یریبك إلى مالا یریبك‘‘مشکوک و مشتبہ چیزوں کو چھوڑ کر غیر مشتبہ چیزوں کو اختیار کرو، اور جو کھانا اور شیرینی بزرگوں کے نام نیاز کی جاتی ہے اس کی دو جہتیں ہیں: بعض جہلاء ان کو تقرب حاصل کرنے اور ان بزرگوں سے اپنی مرادیں مانگنے کی نیت سے کھلاتے ہیں اور شیرینی تقسیم کرتے ہیں، یہ تو شرک ہے، اور اس قسم کا کھانا اور شیرینی کھانا حرام ہے’’وما اهل لغیر اللّٰه‘‘میں داخل ہونے کی وجہ سے، اور بعض حضرات اللہ ہی کے لیے کھلاتے ہیں اور ان کی نیت یہ ہوتی ہے کہ اے اللہ اس کا ثواب فلاں بزرگ کی روح کو پہنچادے تو یہ جائز ہے، اور اس طرح کا کھانا اور شیرینی وغیرہ سب حلال ہیں"۔

 (کتاب البدعات، فاتحہ رسمی، ج:  5صفحہ:269، ط: مکتبہ دار العلوم کراچی )

فتاوی رشیدیہ میں ہے:

"سوال: سامنے کھانا یا کچھ شیرینی رکھ کر ہاتھ اٹھا کر فاتحہ اور قل ہو اللہ پڑھن درست ہے یا نہیں کہ جس کو عرف عام میں فاتحہ کہتے ہیں؟ جواب: فاتحہ مروجہ شرعا درست نہیں ہے، بل کہ بدتِ سیئہ ہے۔کذا فی الاربعین و فتاوی سمرقندی"۔

( کتاب العلم،  صفحہ: 162، ط: دار الاشاعت )

نیز یہ بھی ہے:

سوال :- فاتحہ کا پڑھنا کھانے پر یا شیرینی پر بروز جمعرات درست ہے یا نہیں؟ جواب :- فاتحہ کھانے یا شیرینی پر پڑھنا بدعت ضلالت ہے ہرگز نہ کرنا چاہئیے"۔

( کتاب العلم،  صفحہ: 162، ط: دار الاشاعت )

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144501102578

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں