بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 ربیع الاول 1444ھ 01 اکتوبر 2022 ء

دارالافتاء

 

کھانے کے درمیان انگلیاں چاٹنا


سوال

کھانے کے دوران انگلیاں چاٹنے کا کیا حکم ہے؟ خصوصاً ایسے وقت جب کہ ایک پلیٹ میں بہت افراد کھارہےہوں اور کسی کو انگلیاں چاٹنے سے کراہت ہورہی ہو تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ کھانے سے فراغت پاکر انگلیاں چاٹنا مستحب ہے،کھانے کے دوران مستحب نہیں ہے، بلکہ مکروہ ہے (چاہے کھانے والا اکیلے ایک برتن سے کھا رہا ہو)، اور جب ایک برتن میں کئی  لوگ مل کر کھانا کھا رہے ہوں تو کھانے کے دوران  انگلیاں چاٹنا اور واپس وہی انگلیاں برتن میں ڈالنا،جب کہ دوسرے بھی اس سے کراہت محسوس کریں نہایت ہی برا فعل ہے، اس سے اجتناب لازم ہے۔

فتاویٰ رحیمیہ میں ہے:

"کھانے سے فراغت پاکر انگلیاں چاٹنا مستحب ہے، اثناء طعام میں مستحب نہیں ہے، بلکہ مکروہ ہے ،مدارج النبوۃ میں ہے :"ولعق اصابع در اثنائے اکل مکروہ است۔(ج۱، ص ۴۶۶ ،باب یا زد ہم در عبادات طعام وشراب وغیرہ )۔فقط واللہ اعلم بالصواب"

( کتاب الحظر و الاباحۃ،  باب ما یجوز أکلہ و ما لا یجوز، ج 10, ص 140,  ط:دار الاشاعت)

مسند أحمد میں ہے:

"2672 - حدثنا عبد الله بن الحارث، عن ابن جريج، قال: أخبرني عطاء، أنه سمع ابن عباس، يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إذا أكل أحدكم من الطعام، فلا يمسح يده حتى يلعقها أو يلعقها "  قال أبو الزبير: سمعت جابر بن عبد الله، يقول: ذلك سمعته من النبي صلى الله عليه وسلم: " ولا يرفع الصحفة حتى يلعقها أو يلعقها، فإن ‌آخر ‌الطعام ‌فيه ‌البركة ".

(تحت: مسند بني هاشم، مسند عبد الله بن العباس بن عبد المطلب،4/ 412 ، الناشر: مؤسسة الرسالة)

موسوعۃ فقہیۃ میں ہے:

32 - ذهب جمهور الفقهاء إلى أنلعق الأصابع بعد الأكل وقبل المسح بالمنديل سنة؛ لما ورد عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: " إذا أكل أحدكم فليلعق أصابعه، فإنه لا يدري في أيتهن البركة ".

ولما ورد أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: إذا أكل أحدكم طعامه فلا يمسح يده حتى يلعقها أو يلعقها»

(الموسوعة الفقهية الكويتية،‌‌ كلمة: "يد"، الأحكام المتعلقة باليد، ‌‌لعق الأصابع بعد الأكل، 45/ 272، صادر عن: وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية- الكويت)

عمدۃ القاری میں ہے:

"(باب: لعق ‌الأصابع ومصها قبل أن تمسح بالمنديل )

أي: هذا باب في بيان استحباب لعلق الأصابع ومصها بعد الفراغ من أكل الطعام قبل أن يمسح يده بالمنديل.."

(كتاب: الأطعمة،21/ 76، الناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144311101512

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں