بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 20 جنوری 2021 ء

دارالافتاء

 

کھال میں سوراخ والے جانور کی قربانی کا حکم


سوال

قربانی والے جانور کی کھال میں سوراخ تھا، جب کھال اتاری گئی تو گوشت میں کوئی مسئلہ نہ تھا۔ کیا قربانی جائز تھی؟

جواب

اگر جانور کی کھال کا ظاہری حصہ عیب دار ہے، گوشت میں اس کا اثر نہیں گیا تو اس کی قربانی کرنا جائز ہے۔

"(ويضحي بالجماء والخصي والثولاء) أي المجنونة (إذا لم يمنعها من السوم والرعي) (، وإن منعها لا) تجوز التضحية بها (والجرباء السمينة) فلو مهزولة لم يجز، لأن الجرب في اللحم نقص".

(الدر المختار وحاشية ابن عابدين  (6 / 323) ط: سعید)

فقط و الله أعلم


فتوی نمبر : 144112200784

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں