بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 شوال 1445ھ 25 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

کسی دوسرے کو زکاۃ کا وکیل بنانے کا حکم


سوال

ایک شخص دوسرے شخص کو حکم دیتا ہے کہ وہ اس کی طرف سےپچاس ہزار روپے بطور زکاۃ فقراء میں تقسیم کردیں،اور وکیل ادا کردیتا ہے ،لیکن بعد میں مؤکل پچاس ہزار روپےکے بجائے تیس ہزارکا وکیل بنانے کی بات کرتا ہے، حالاں کہ وکیل نے پچاس ہزار روپے زکاۃ کی نیت سے ادا کردیئے، تو سوال یہ ہے کہ مؤکل کی کتنے روپے کی زکاۃ ادا ہوئی؟اور بقیہ بیس ہزارکے بارے میں شرعی حکم کیا ہے بحوالہ تحریر فرمائیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃً  مؤکل نے وکیل کو پچاس ہزار روپے زکاۃ کی ادائیگی کا حکم  دیا تھا اور وکیل نے اس کو ادا کردیا تھا تو  پچاس ہزار روپے زکاۃ مؤکل کی طرف سے ادا ہوچکی ہے، اور  وکیل اپنےپچاس ہزار روپے مؤکل سے وصول کرنے کا حق دار ہے۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"ولو تصدق عنه بأمره جاز ويرجع ‌بما ‌دفع ‌عند أبي يوسف. وعند محمد لا يرجع إلا بشرط الرجوع."

‌‌كتاب الزكاة، ج:2، ص:269، ط: سعید)

بدائع الصنائع میں ہے:

"و لو تصدق عن غيره بغير أمره فإن تصدق بمال نفسه جازت الصدقة عن نفسه و لاتجوز عن غيره و إن أجازه و رضي به، أما عدم الجواز عن غيره فلعدم التمليك منه إذ لا ملك له في المؤدى و لايملكه بالإجازة فلاتقع الصدقة عنه و تقع عن المتصدق؛ لأن التصدق وجد نفاذًا عليه، و إن تصدق بمال المتصدق عنه وقف على إجازته فإن أجاز و المال قائم جاز عن الزكاة و إن كان المال هالكًا جاز عن التطوع ولم يجز عن الزكاة؛ لأنه لما تصدق عنه بغير أمره وهلك المال صار بدله دينًا في ذمته فلو جاز ذلك عن الزكاة كان أداء الدين عن الغير و أنه لايجوز، والله أعلم."

(كتاب الزكوة، فصل شرائط ركن الزكوة، ج:2، ص:41،  ط: دارالكتب العلمية)

وفيه ايضاّ:

" والكلام فيه بناء على أصلين: أحدهما ما ذكرنا فيما تقدم وهو أن الزكاة عبادة عندنا والعبادة لاتتأدى إلا باختيار من عليه إما بمباشرته بنفسه، أو بأمره، أو إنابته غيره فيقوم النائب مقامه فيصير مؤديًا بيد النائب، وإذا أوصى فقد أناب وإذا لم يوص فلم ينب، فلو جعل الوارث نائبًا عنه شرعًا من غير إنابته لكان ذلك إنابةً جبريةً والجبر ينافي العبادة إذ العبادة فعل يأتيه العبد باختياره ولهذا قلنا: إنه ليس للإمام أن يأخذ الزكاة من صاحب المال من غير إذنه جبرًا، ولو أخذ لاتسقط عنه الزكاة."

(كتاب الزكوة، فصل شرائط جواز النصاب، ج:2، ص:53، ط: دارالكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144504102112

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں