بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ربیع الاول 1443ھ 25 اکتوبر 2021 ء

دارالافتاء

 

کثرتِ احتلام سے بچنے کے لیے جلق کا سہارا لینا


سوال

مجھے اکثر ہر دو  یا تین راتوں بعد احتلام ہوتا ہے، لیکن جب بھی میں دن نہاتا ہوں اور رات کو احتلام ہونے کی ڈر سے مشت زنی کرتا ہوں تو پھر  چھ ،سات  راتوں بعد احتلام ہوتا ہے،  اگر رات کو احتلام سے بچنے کے ليے  میں دن میں دو ، تین دن بعد مشت زنی کروں  تو کیا یہ جائز ہے یانہیں ؟ایسا سوال کرنے پر بہت معذرت،  لیکن مجبوری ہے۔

جواب

احتلام کی کثرت سے بچنے کے لیے مشت زنی کرنا جائز نہیں ہے، اس لیے کہ” احتلام“  ہوجانا غیر اختیاری چیز ہے، اس پر گناہ نہیں ہے، جب کہ ”مشت زنی“ اختیاری ہے، اس پر گناہ ہے،   کئی احادیث میں اس فعلِ بد  پر وعیدیں وارد ہوئی ہیں، اور اس فعل کے مرتکب پر لعنت کی گئی ہے، اور  ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سات لوگ ایسے ہیں جن سے اللہ تعالٰی قیامت کے دن نہ گفتگو فرمائیں گے اور نہ ان کی طرف نظرِ کرم فرمائیں گے ۔۔۔ اُن میں سے ایک وہ شخص ہے جو اپنے ہاتھ سے نکاح کرتا ہے (یعنی مشت زنی کرتا ہے )۔

کما فی شعب الإيمان (7/ 329):

’’عن أنس بن مالك، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " سبعة لاينظر الله عز وجل إليهم يوم القيامة، ولايزكيهم، ولايجمعهم مع العالمين، يدخلهم النار أول الداخلين إلا أن يتوبوا، إلا أن يتوبوا، إلا أن يتوبوا، فمن تاب تاب الله عليه: الناكح يده، والفاعل والمفعول به، والمدمن بالخمر، والضارب أبويه حتى يستغيثا، والمؤذي جيرانه حتى يلعنوه، والناكح حليلة جاره". " تفرد به هكذا مسلمة بن جعفر هذا ". قال البخاري في التاريخ".

 لہذا  کثرتِ  احتلام سے بچنے کے لیے سائل کو چاہیے کہ  کسی معالج سے مشورہ بھی کرے، اور اپنے خیالات کو پاک رکھے ،اور اگر نکاح نہیں ہوا ہے اور  نکاح کی استطاعت ہے تو جلد از نکاح کرنے کی کوشش کی کرے، ورنہ غلبہ شہوت سے بچنے کے لیے کثرت سے روزوں کا اہتمام کرنے کے  ساتھ، ساتھ نیک لوگوں کی صحبت میں  بیٹھنے کا اہتمام  اور تنہائی میں رہنے سے اجتناب کرے۔نیز رات میں  باوضو ہوکر سونے سے پہلے سورۂ طارق کی ابتدائی دس آیات پڑھ کر سویا کرے، ان شاء اللہ تعالیٰ احتلام نہیں ہوگا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144301200105

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں