بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 ذو الحجة 1443ھ 02 جولائی 2022 ء

دارالافتاء

 

کثرتِ درود سے متعلق حدیث کی تحقیق


سوال

 ایک مولانا  صاحب بیان فرما رہے تھے کہ جو شخص آقاکریم ﷺ پر درود پاک کی کثرت کرتا ہے، قیامت کے دن اللہ پاک کے چاروں مقرب فرشتے اس کی مدد کریں گے، جبرائیل اس کو پلِ صراط پارکروائیں گے، اسرافیل اس کو جامِ کوثر پلائیں گےاور اسی طرح باقی دو فرشتوں کا بھی کہا ہے،کیا یہ حدیث  ثابت ہے؟ اور اگر ہے تو  اس کا  حوالہ عطا فرمائیں ۔

 

جواب

مذکورہ حدیث کو  علامہ عثمان بن حسن بن احمد الشاکر الخوبوی نے اپنی کتاب درۃ الناصحین في  الوعظ والإرشاد   میں بلا کسی سند کے نقل کیا ہے۔حدیث  کے الفاظ یوں ذکر  کیے  گئے ہیں:

​"عن النبي عليه الصلوة والسلام قال: أتاني جبرائيل، وميكائيل، وإسرافيل، وعزرائيل عليهم السلام، فقال جبرائيل: يا رسول الله، من صلى عليك في كل يوم عشر مرات أنا آخذا بيده وأمرّه على الصراط كالبرق الخاطف، وقال ميكائيل عليه السلام: أنا أسقيه من حوضك، وقال إسرافيل عليه السلام: أنا أسجد الله تعالى، ما أرفع رأسي حتى يغفر الله تعالى له. وقال عزرائيل عليه السلام: أنا أقبض روحه كما أقبض أرواح الأنبياء عليهم السلام".

(درة الناصحين في الوعظ والإرشاد، ص:١٦٧، مصطفى البابي،مصر، الطبعة السادسة، ١٣٧٢ھ)

ترجمہ: سرکار دوعالمﷺ سے روایت ہے کہ میرے پاس  جبریل امین، میکائیل، اسرافیل اور عزرائیل علیہم السلام آئے، تو جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ!   جو شخص آپ پر ہر روز  دس مرتبہ درود پڑھے  گا تو میں اس کاہاتھ   پکڑ کر اس  کو پل صراط سے بجلج کی طرح گزا ر دوں گا، میکائیل علیہ السلام نے عرض کیا کہ میں آپ کے حوض سے اس کو پانی پلاؤں گا،  اسرافیل علیہ السلام نے عرض کیا کہ میں اللہ کی بارگاہ میں سجدہ کروں گا اور اس وقت تک اپنا سر سجدے سے نہیں اٹھاؤں گا جب تک اللہ تعالیٰ اس کو بخش نہ دے ، اور عزرائیل علیہ السلام نے کہا کہ میں اس کی روح اس طرح قبض کروں گا   جس طرح میں انبیاء علیہم السلام کی ارواح قبض کرتا ہوں۔

(قرة الواعظین، حصہ دوم، ص ٣٥٧،  ممتاز اکیڈمی ٢٠٠٤م)

​یہ حدیث مذکورہ کتاب میں کسی سند کے بغیر ذکر کی گئی ہے،  جب کہ یہ کتاب خود محققین کے یہاں پایہ ثبوت تک نہیں پہنچتی، نیز اس کے علاوہ  معتمد کتابوں میں اس حدیث کا کوئی مضمون نہیں ملتا،  لہذا جب تک کسی معتمد سند کے ذریعے سے اس حدیث کاکوئی  حوالہ نہ  ملے ، اس حدیث کو آگے بیان  کرنے سے توقف لازم ہے۔  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144212202368

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں