بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 شعبان 1445ھ 26 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

کشف کے ذریعے شریعت کا کوئی حکم ثابت ہوتا ہے یا نہیں؟


سوال

طلاق کے مسائل میں مختلف دارالافتاؤں نے حرمتِ مغلظہ کا فتوی دیا، اور ایک صاحبِ کشف عامل نے کشف کے ذریعے دیکھ کر بائن ہونے کا فتوی دیا، تو کیا صاحبِ کشف عامل کی بات پر عمل کرنا جائز ہے؟

جواب

واضح رہے کہ فتوی قرآن و سنت کو مدِ نظر رکھ کر دیاجاتا ہے، نہ کہ کشف و الہام کی بنیاد پر، چوں کہ سائل نے سوالنامہ منسلک نہیں کیا، لہذا حتمی جواب دینے کے بجائے اصولی جواب دیا جاتا ہے کہ اگر مختلف دارا الافتاء کی طرف سے شرعی اصول کے مطابق طلاقِ مغلظہ کا فتوی دیا ہو تو اس کے مقابلہ میں محض کشف یا الہام کو مدار بناکر تین طلاق کے خلاف فتوی دینا شرعاً معتبر نہیں ہوگا۔

كشف الأسرار عن أصول فخر الإسلام البزدوی میں ہے:

"‌والإلهام ‌ليس بحجة أصلا، أو أنه كما لا يصلح للإلزام لا يصلح أن يكون دليلا شرعيا في نفسه؛ لأن مبنى أدلة الشرع على الظهور يقف عليها كل واحد، وهذا مما لا يقف عليه غير صاحبه."

(باب ركن القياس، ما يصلح دليلا على العلة، ج: 3، ص: 358، ط: دار الكتاب الإسلامي)

‌تیسیر التحریر شرح كتاب التحریر فی أصول الفقہ میں ہے:

"والإلهام (‌ليس بحجة إلا عن نبي."

(‌‌الباب الرابع في الإجماع، ج: 3، ص: 255، ط: دار الكتب العلمية)

بدائع الصنائع میں ہے:

"وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله - عز وجل - {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره}، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة."

(کتاب الطلاق، فصل في حكم الطلاق البائن، ج: 3، ص: 187، ط: سعید)

فتاوی شامی میں ہے:

"(والبدعي ثلاث متفرقة.

وفي الرد: (قوله ثلاثة متفرقة) وكذا بكلمة واحدة بالأولى... الي قوله: وذهب جمهور الصحابة والتابعين ومن بعدهم من أئمة المسلمين إلى أنه يقع ثلاث."

(‌‌كتاب الطلاق، ج: 3، ص: 233،232، ط: سعید)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144507101762

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں