بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 ذو الحجة 1442ھ 31 جولائی 2021 ء

دارالافتاء

 

کاروبار کے لیے بینک سے قرض لینا


سوال

اپنا کاروبار شروع کرنے کے لیے رقم کی ضرورت ہے  اور  اس کے لیے بینک سے قرض لینے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں۔ اب بینک کی شرط یہ ہے کہ اگر ایک سال تک  رقم واپس کر دی جائے  تو کوئی سود نہیں پڑے گا اور ہم ان شااللہ ایک سال کے اندر اندر رقم واپس کر دیں گے، ہمارے پاس کوئی اور راستہ نہیں رقم کے بندوبست کرنے کا تو کیا ہم یہ قرض لے سکتے ہیں؟

جواب

کسی  بھی بینک سے  قرضہ لینے کی صورت میں سود کا معاہدہ کرنا پڑتا ہے گو وہ کسی دوسرے نام سے کیا جاتا ہو؛ لہٰذا اگر  کسی شخص کو یقین ہو کہ وہ اتنی مدت میں قرض ادا کردے گا، جس میں سود دینا نہیں پڑتا، تب بھی اس کے لیے بینک سے قرض لینا درست نہیں ہے؛ اس لیے کہ جس طرح سود کا لینا دینا شریعت میں حرام ہے ،اسی طرح سودی لین دین کا معاہدہ کرنا بھی شریعت میں حرام ہے۔

قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ میں  سودی معاملات کرنے والوں کے لیے سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں ؛  اس لیے اس سے احتراز  لازم اور ضروری ہے،انجام کار سودی قرضہ کاروبار میں  ترقی کے بجائے تنزلی کا ذریعہ بنتاہے؛ لہذااپنی وسعت کے مطابق کام کریں، سودی قرضہ نہ لیں۔  اگر قرض لینا ہی ہو تو بینک کے علاوہ کسی اور  سے غیر سودی قرضہ حاصل کر لیںاور جب تک غیر سودی قرض نہ ملے، متبادل حلال ذریعہ پر اکتفا کیجیے، دعاؤں کے اہتمام کے ساتھ  استغفار   اور "اَللّٰهُمَّ اكْفِنِيْ بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ وَأَغْنِنَا بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ"کی کثرت رکھیں، سورۃ الشوریٰ (۲۵ واں پارہ) کے دُوسرے رُکوع کی آخری آیت: {اللَّهُ لَطِيفٌ بِعِبَادِهِ يَرْزُقُ مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ الْقَوِيُّ الْعَزِيزُ}اَسی مرتبہ فجر کے بعد پڑھا کریں۔

قرآن مجید میں ہے:

{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ * فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ}

 [البقرة: 278، 279]

حدیث شریف میں ہے:

"عن جابر، قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا، ومؤكله، وكاتبه، وشاهديه»، وقال: «هم سواء»".

 (صحیح مسلم، باب لعن آکل الربوٰ و موکلہ، ج:۳؍۱۲۱۹، ط:داراحیاءالتراث العربی)

 وفي الأشباه:

"كل قرض جر نفعًا فهو حرام."

(5/ 166 ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144112201540

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں