بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 محرم 1446ھ 20 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

کاروبار میں ادھار لے کر رقم بھی لگائی تو اس پر زکاۃ واجب ہے؟


سوال

 ایک آدمی کا کاروبار ہے یونیفارم کا ،اسی کی آمدنی سے اپنا گذر بسر بھی کرتا ہے،اور جب یونیفارم ختم ہو تے ہیں تو اسی بیچے ہوئے یونیفارم کے پیسوں سے اور لا کر رکھ دیتا ہےکوئی اور جمع پونجی نہیں ہے بلکہ ادھار پر بھی لاکر رکھ دیتا ہےبکنے پر قرض اتارتا ہے تو آیا اس پر زکوٰۃ کا حساب کتاب کیسے ہوگا؟

جواب

صورت مسئولہ میں مذکورہ کاروبار پر سال مکمل ہونے کے بعد  دوکان میں جتنی مالیت کا سامان(يونيفارم) قابل فروخت موجود ہے، اس کی قیمت میں سے قرض(ادھار) کی رقم منہا کرکے باقی ماندہ سامان (يونيفار)کی مالیت کے ساتھ  موجود نقدی  جمع کرکے مجموعی رقم نصاب یعنی ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر یا اس سے زائد  ہو تو  اس کی زکوۃ اداکرنا لازم ہے۔اوراگرسال گزرنے کےبعديونيفارم  کی مالیت اورموجود نقدی کی مجموعی رقم نصاب یعنی ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابرنہ ہو تو  اس صورت میں  زکوۃواجب نہیں ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"(ومنها الفراغ عن الدين) قال أصحابنا - رحمهم الله تعالى -: ‌كل ‌دين ‌له ‌مطالب ‌من ‌جهة ‌العباد يمنع وجوب الزكاة سواء كان الدين للعباد كالقرض وثمن البيع وضمان المتلفات وأرش الجراحة، وسواء كان الدين من النقود أو المكيل أو الموزون أو الثياب أو الحيوان وجب بخلع أو صلح عن دم عمد، وهو حال أو مؤجل أو لله - تعالى - كدين الزكاة فإن كان زكاة سائمة يمنع وجوب الزكاة بلا خلاف بين أصحابنا - رحمهم الله تعالى - سواء كان ذلك في العين بأن كان العين قائما أو في الذمة باستهلاك النصاب، وإن كان زكاة الأثمان وزكاة عروض التجارة ففيها خلاف بين أصحابنا فعند أبي حنيفة ومحمد - رحمهما الله تعالى - الجواب فيه كالجواب في السوائم".

الفتاوي الهندية ، كتاب الزكاة ، الباب الاول في تفسيرها وصفتهاوشرائطها 1/ 172، 173ط: رشيدية )

فتح القدير ميں هے :

"(‌ومن ‌كان ‌عليه ‌دين يحيط بماله فلا زكاة عليه) .......... (وإن كان ماله أكثر من دينه زكى الفاضل إذا بلغ نصابا) لفراغه عن الحاجة الأصلية."

(فتح القدير ،كتاب الزكاة 2/ 160ط: دارالفكر)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144403102051

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں