بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 محرم 1446ھ 22 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

کاروبار میں سے ایک حصہ اللہ تعالیٰ کے لیے مختص کرنے کا حکم


سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر بیس شیئرزہولڈر اپنا مشترکہ کاروبار شروع کرتے ہیں، اور نفلی طور پر یہ نیت کرتے ہیں کہ ہم بیس افراد کا نفع اکیس پر تقسیم کر کے ایک حصہ میں اللہ تعالیٰ کو اپنا حصہ دار بناتے ہیں ، اب پوچھنا یہ ہے کہ اس طرح نیت کرنے کا کیا حکم ہے؟ اور دوسرا سوال اس طرح کی نیت کے صدقے کا کیا حکم ہے ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں  سائل کانفلی طور پر  نیت کرتے ہوئے یہ کہنا   کہ کاروبار کے منافع  میں سے ایک   حصہ اللہ تعالی کے  لیے   ہے،  تو  اس کی  حیثیت صدقہ  کی ہے،  اور نفلی صدقے کی  رقم کو خرچ کرنے میں صدقہ کنندہ خود مختار ہے، ضرورت اور مصلحت کودیکھ کر اس رقم کو جہاں چاہے، خرچ کر سکتا ہے ۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"اعلم ‌أن ‌الصدقة تستحب بفاضل عن كفايته وكفاية من يمونه، وإن تصدق بما ينقص مؤنة من يمونه أثم، ومن أراد التصدق بماله كله وهو يعلم من نفسه حسن التوكل والصبر عن المسألة فله ذلك وإلا فلا يجوز، ويكره لمن لا صبر له على الضيق أن ينقص نفقة نفسه عن الكفاية التامة كذا في شرح درر البحار وفي التتارخانية عن المحيط الأفضل لمن يتصدق نفلا أن ينوي لجميع المؤمنين والمؤمنات؛ لأنها تصل إليهم ولا ينقص من أجره شيء اهـ والله تعالى أعلم."

(‌‌كتاب الزكاة، باب صدقة الفطر، ج:2، ص:357، ط: سعید)

فتاوی تاتارخانیہ میں ہے:

"فالجملة في هذا أن جنس الصدقة یجوز صرفها إلی المسلم..… ویجوز صرف التطوع إلیهم بالاتفاق..... روی عن أبي یوسف أنه یجوز صرف الصدقات إلی الأغنیاء اذا سموا فی الوقف..... فأما الصدقة علی وجه الصلة والتطوع فلا بأس به، وفي الفتاوی العتابیة: وکذلک یجوز النفل للغني."

(كتاب الزكاة، ج:3، ص:211تا 214، ط: مكتبه زكريا ديوبند الهند)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144508102474

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں