بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 شوال 1445ھ 21 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

کاروبار میں دو شرکاء میں سے ایک کا تنخواہ وصول کرنا


سوال

اگر دو آدمیوں کا مشترکہ کاروبار ہو،  ہر ایک نے نصف نصف رقم دی ہو،  لیکن ان میں سے کاروبار کو ایک چلا رہا ہے اور وہ اس کاروبار سے حاصل شدہ منافع سے پہلے اپنی تنخواہ لیتا ہے اور پھر باقی ماندہ منافع دونوں شریکوں کے درمیان تقسیم ہوجاتے ہیں، تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے جو آدمی کسی کاروبار میں شریک ہوا ور اس کا سرمایہ اس میں لگا ہوا ہو، تو شرعاً اس کے لیے اپنے کام کی اجرت اور تنخواہ لینا جائز نہیں ہے، بلکہ جو نفع ہوگا، اس کو اس تناسب سے تقسیم کیا جائے گا، جو باہمی رضامندی سے طے ہوجائے، البتہ جو شریک کام کر رہا ہے، اس کے لیے دوسرے کی بنسبت فی صد کے اعتبار سے طے کر کے زیادہ نفع لینا جائز ہوتا ہے۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں کاروبار میں شریک کے لیے الگ سے تنخواہ وصول کرنا جائز نہیں ہے، بلکہ وہ دوسرے کی بنسبت زیادہ نفع لے سکتا ہے۔

الدر المختار مع رد المحتار میں ہے:

"(والربح في الشركة الفاسدة ‌بقدر ‌المال، ولا عبرة بشرط الفضل)."

وفي الشامىة تحته:

"(قوله: والربح إلخ) حاصله أن الشركة الفاسدة إما بدون مال أو به من الجانبين أو من أحدهما، فحكم الأولى أن الربح فيها للعامل كما علمت، والثانية ‌بقدر ‌المال، ولم يذكر أن لأحدهم أجرا؛ لأنه لا أجر للشريك في العمل بالمشترك كما ذكروه في قفيز الطحان."

(كتاب الشركة، ج:4، ص:326، ط:سعيد)

فقط واللہ أعلم


فتوی نمبر : 144406101299

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں