بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو الحجة 1445ھ 16 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

کاروبار کے لیے سودی قرضہ لینے کا حکم


سوال

کاروبار کے لئے قرضہ چاہیے، لیکن بغیر سود کے نہیں ملتاہے، تو کیا سودی قرضہ لینا جائز ہے؟

جواب

واضح رہے کہ سود لینا اور دینا دونوں ناجائز اور حرام ہے، سودی معاملہ کرنے والے کے ساتھ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے جنگ کا اعلان فرمایا گیا ہے، حدیث شریف میں سود لینےوالے، سود دینے والے، سودی معاملہ کے گواہ بننے والے اور سودی معاملہ لکھنے والے تمام لوگوں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے اور فرمایا کہ یہ سب لوگ سود کے گناہ میں برابر کے شریک ہیں، لہٰذا سودی قرضہ لینا ناجائز اور حرام ہے، اس سے بچنا لازم ہے۔

باقی  ضرورت کے لیے  کسی ایسے رشتہ دار یا واقف شخص سے قرض لیا جاسکتا ہے جو بغیر سود کے قرض دے، اور اگر کوئی بندوبست نہ ہو تو اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے قناعت اختیار کرنی چاہیے، کیوں کہ قرض لینے کے بعد اس قرض کی ادائیگی کا بھی تو انتظام کرنا ہوگا، اس وقت جیسے محنت کرکے حلال رقم سے ادائیگی کا انتظام کیا جائے گا، ابھی سے کوشش کرلی جائے تاکہ سودی قرض لینے کی ہی نوبت نہ آئے، اور اگر بعد میں ادائیگی میں حلال کا اہتمام نہ ہو تو یہ گناہ در گناہ ہوجائے گا، کہیں اس سے زیادہ پریشانی نہ ہوجائے اور سودی قرضہ اتارنے کے لیے  پھر سودی قرضے لینے کا سلسلہ   نہ کرنا   پڑجائے، اگر آدمی حرام سے بچنے  کے لیے ہمت بلند رکھے اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھے تو اللہ کی طرف سے مدد ہوتی ہے اور اللہ تعالی ایسی جگہ سے بندوبست فرماتے ہیں جو اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا۔

مسلم شریف میں ہے:

"عن جابر، قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم ‌آكل ‌الربا، ومؤكله، وكاتبه، وشاهديه وقال: هم سواء."

(کتاب المساقاۃ، باب لعن آكل الربا ومؤكله، 1219/3، ط: دارإحیاءالتراث العربي)

ترجمہ:" حضرت جابر  رضی اللہ عنہ  سے روایت  ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے ، کِھلانے والے ، سودی معاملہ لکھنے والے اور سودی معاملے کے گواہ بننے والوں پر لعنت فرمائی ہے، اور فرمایا کہ  یہ سب (گناہ میں) برابر (کے شریک) ہیں۔"

تفسیر ابن کثیر میں ہے:

"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ (278) فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُؤُسُ أَمْوالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلا تُظْلَمُونَ (279)..... قال ابن جريج: قال ابن عباس: فأذنوا بحرب، أي استيقنوا بحرب من الله ورسوله، وتقدم من رواية ربيعة بن كلثوم، عن أبيه عن سعيد بن جبير عن ابن عباس، قال: يقال يوم القيامة لآكل الربا: خذ سلاحك للحرب، ثم قرأ فإن لم تفعلوا فأذنوا بحرب من الله ورسوله.

وقال علي بن أبي طلحة، عن ابن عباس فإن لم تفعلوا فأذنوا بحرب من الله ورسوله فمن كان مقيما على الربا لا ينزع عنه، كان حقا على إمام المسلمين أن يستتيبه، فإن نزع وإلا ضرب عنقه وقال ابن أبي حاتم: حدثنا علي بن الحسين، حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الأعلى، حدثنا هشام بن حسان، عن الحسن وابن سيرين، أنهما قالا: والله إن هؤلاء الصيارفة لأكلة الربا، وإنهم قد أذنوا بحرب من الله ورسوله، ولو كان على الناس إمام عادل لاستتابهم، فإن تابوا وإلا وضع فيه السلاح.

وقال قتادة: أوعدهم الله بالقتل كما يسمعون، وجعلهم بهرجا أين ما أتوا، فإياكم ومخالطة هذه البيوع من الربا، فإن الله قد أوسع الحلال وطابه، فلا يلجئنكم إلى معصيته فاقة. رواه ابن أبي حاتم، وقال الربيع بن أنس: أوعد الله آكل الربا بالقتل، رواه ابن جرير."

(سورة البقرة: 278،279، 553،554/1، ط: دار الكتب العلمية)

وفیہ ایضًا:

"وقوله تعالى: "وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجاً وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ" ومن يتق الله فيما أمره به وترك ما نهاه عنه يجعل له من أمره مخرجا ويرزقه من حيث لا يحتسب أي من جهة لا تخطر بباله."

(سورة الطلاق: 2، 168/8، ط: دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144407100430

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں