بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 صفر 1444ھ 26 ستمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

کاروبار کے لیے دی گئی قرض کی رقم پر نفع لینے کا حکم


سوال

میرے بھائی نے مجھ سے کاروبار کرنے کے لیے چودہ لاکھ پچھتر ہزار روپے قرض لیے ، تاکہ فیکٹری ڈالے اور کام کرے ، مذکورہ رقم انہوں نے اپنے کاروبار کرنے کے لیے لی تھی نہ کہ میرے لیے ، اس نے کہا کہ جو بھی مجھے نفع ہوگا ، اس میں سے پچیس ہزار  روپے نفع ہر ماہ آپ کو دوں گا، لیکن میں نے کہا کہ نہیں بلکہ اس کے بدلے ہر ماہ میرے گھر کا کرایہ ادا کردیا کرو جو کہ ساڑھے سات ہزار روپے ہے اور وہ چار سال تک میرے گھر کا کرایہ دیتا رہا ، کُل رقم جو بھائی نے اب تک کرایہ کی مد میں ادا کی ہے وہ تین لاکھ پچاس ہزار روپے بنتی ہے ۔

اب مسئلہ یہ ہے کہ وہ رقم لے کر کاروبار کرتا رہا ، اسے نفع بھی ہوتا رہا اور میرے گھر کا کرایہ بھی ادا کرتا رہا ، اب کمپنی میں اسے نقصان ہوا تو کہتا ہے کہ تمہارے گھر کا جو کرایہ اب تک میں نےادا کیا ہے وہ سود کی رقم تھی ، اسے کاٹ کر اور باقی تھوڑے بہت پیسے ضرورت پڑنے پر میں اس سے لیتا رہا ہوں یہ کہہ کرکہ  جو رقم میری آپ کے پاس قرض رکھی ہے اس میں سے کاٹ  دینا جو چھ لاکھ پچیس ہزار روپے بنتے ہیں ، اسے بھی کاٹ کر باقی جو رقم بچے گی وہ میں ادا کروں گا جو تقریباً پانچ لاکھ روپے بنتی ہے ۔

۱۔ شریعت کی رو سے اس نے جو رقم سود کے نام سے بطورِ نفع مجھے دی ، اسے وہ کاٹ سکتا ہے یا نہیں ؟

۲۔میرا نفع لینا اور کاروبار کا حکم بتائیں کہ کس رقم کا مستحق ہوں، جو میں اس سے وصول کرسکتا ہوں؟ 

جواب

صورتِ مسئولہ میں جو رقم بطورِ قرض  سائل نے  اپنے بھائی کو کاروبار کرنے کے لیے  دی تھی ، سائل کےلیےاس  پر نفع لینا جائز نہیں تھا،کیوں کہ قرض پر نفع لینا سود ہونے کی وجہ سے حرام ہے ، اب جب کہ سائل کا بھائی  سائل کے گھر کا کرایہ  کافی عرصہ تک ادا کرتا رہا، چوں کہ وہ حرام رقم تھی اس وجہ سے اصل رقم سے مذکورہ رقم  اورساتھ ساتھ وہ  رقم جو ضرورت کے وقت  سائل اپنے بھائی سے یہ کہہ کر لیتا رہاکہ قرض میں  سے اسے کاٹ لینا اسےبھی منہا کرکے جتنی رقم باقی بچتی ہے وہ سائل واپس لینے کا حقدار ہوگا، اس سے زیادہ لینا سائل کے لیے جائز نہیں ۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادہے:

"عن فضالة بن عبيد صاحب النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: " كل قرض جر منفعة فهو وجه من وجوه الربا".

(أخرجه البيهقي في الكبرى في«باب كل قرض جر منفعة فهو ربا»،ج:5، ص:571، رقم:10933، ط:دار الكتب العلمية)

فتاوی شامی میں ہے:

’’(قولهكل قرض جرنفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به ويأتي تمامه۔‘‘

(کتاب البیوع، فصل فی القرض ،مطلب كل قرض جر نفعا حرام   ، ج:5، ص:166،ط:سعيد)

تفسیر الکبیر الرازی میں ہے:

’’أما ربا النسيئة فهو الأمر الذي كان مشهورا متعارفا في الجاهلية، وذلك أنهم كانوا ‌يدفعون ‌المال على أن يأخذوا كل شهر قدرا معينا، ويكون رأس المال باقيا، ثم إذا حل الدين طالبوا المديون برأس المال، فإن تعذر عليه الأداء زادوا في الحق والأجل، فهذا هو الربا الذي كانوا في الجاهلية يتعاملون به۔‘‘

(سورۃ البقرۃ، الحکم الثانی: من الاحکام الشرعیۃفی ھذاالموضع.....، ج:7، ص:72، ط: دار احیاء التراث)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144305100351

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں