بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

کاروبار کی زکوٰۃ ادا کرنے کا طریقہ


سوال

 میری  الیکٹرانکس کی دکان ہے اور میں نقد  پر خرید وفروخت کرتاہوں، کوئی بھی  پروڈکٹ فروخت کرتے  وقت گاہک کو رسید دیتے ہیں، سال پوراہونے پر تمام رسیدیں اعداد وشمار کرنے کے بعد زکوۃ  کی ادائیگی کرتے ہیں۔

اب سوال یہ  ہے کہ کمپنی سے جو پروڈکٹ ہم نے خریدی ہے اس کی آدھی رقم ہم نے کمپنی کو ادا کی ہے اور آدھی رقم ہمارے ذمہ باقی ہے۔ اب جس پروڈکٹ کی ہم نے کمپنی کورقم ادا کی ہےزکوۃ  کی ادائیگی اس پر بنتی ہے۔یا جس کی ہم نے رقم ادا نہیں کی اس پر بھی زکوۃ کی ادائیگی کرنی ہے؟

جواب

واضح رہے کہ  تجارتی مال کی زکاۃ ادا کرنے میں قیمتِ خرید کا اعتبار  نہیں ہے، بلکہ قیمتِ فروخت کا اعتبار ہے،  یعنی زکاۃ  نکالتے  وقت بازار میں  سامان کو فروخت کرنے کی جو قیمت ہے اسی قیمت سے ڈھائی فیصد زکاۃ ادا کرنا ضروری ہے۔

اس کے لیے  سال بھر کی رسیدیں جمع کرکے زکوٰۃ  نکالنا ضروری نہیں ہے ،  اس لیے کہ سال کے آخر میں اگر وہ رقم خرچ ہوچکی ہو تو اس کی زکوٰۃ  لازم نہیں ہے، بلکہ کاروبار  کی زکوۃ نکالنے کا طریقہ یہ ہے کہ :

جس دن آپ صاحبِ نصاب ہوئے تھے،  چاند کی وہ تاریخ نوٹ کرلیں، اور اگر صاحبِ نصاب ہوئے عرصہ گزرگیا ہو اور آپ کو اندازا نہ ہو کہ آپ چاند کی کس تاریخ کو صاحبِ نصاب ہوئے تھے، تو اندازے سے ایک تاریخ مقرر کرلیں ( مثلاً: یکم رمضان المبارک طے کرلیں کہ یہ آپ کی زکاۃ کا سال مکمل ہونے کا دن ہے)  پھر ہر سال اس دن اپنے دیگر  قابلِ زکاۃ  اثاثوں کے ساتھ  پوری دکان کے قابلِ فروخت  سامان کا جائزہ لے کر مارکیٹ میں  قیمتِ فروخت کے حساب سے اس کی مالیت کی تعیین کریں، اس میں سے اپنے اوپر واجب الادا اخراجات  مثلاً جو ادائیگیاں باقی ہیں یا دیگر قرض وغیرہ منہا کریں،  اور اس کے بعد جتنی مالیت بچے اس کا چالیسواں حصہ یعنی  ڈھائی فیصد زکاۃ ادا کردیں۔

تاہم اگر پوری کوشش کے باوجود  کسی وجہ سے دکان کا  مکمل حساب کرنا ممکن  نہ ہوتو  اندازا  لگاکر اس میں  کچھ اضافہ کرکے زکاۃ  ادا کرے ، تاکہ زکاۃ واجب مقدار سے  کم ادا نہ ہو۔

باقی  کمپنی  سے جو پراڈکٹ آپ نے خرید لی ہیں تو  چوں کہ وہ سب آپ کی ملکیت میں آگئی ہیں، اس لیے ان سب کی زکوٰۃ  آپ کے ذمہ لازم ہے، البتہ جتنی ادائیگی آپ کے ذمہ باقی ہے، وہ آپ پر  قرض  ہے، زکوٰۃ  کا حساب کرتے ہوئے  اتنی رقم منہا کرلی جائے تو یہ جائز ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(وجاز دفع القیمة في زكاة وعشر وخراج وفطرة ونذر وكفارة غير الإعتاق) وتعتبر القيمة يوم الوجوب، وقالا يوم الأداء. وفي السوائم يوم الأداء إجماعا، وهو الأصح، ويقوم في البلد الذي المال فيه ولو في مفازة ففي أقرب الأمصار إليه، فتح."

(2/286، باب زکاۃ الغنم، ط؛ سعید)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"(ومنها حولان الحول على المال) العبرة في الزكاة للحول القمري كذا في القنية، وإذا كان النصاب كاملا في طرفي الحول فنقصانه فيما بين ذلك لايسقط الزكاة، كذا في الهداية."

(1/175، کتاب الزکوٰۃ،  ط؛ رشیدیہ)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144208200516

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں