بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 شوال 1445ھ 23 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

کرنسی آن لین ٹریڈنگ کا حکم؟


سوال

 کرنسی آن لین ٹریڈنگ سود اور ٹیکس کے بغیر ، حلال ہے یاحرام؟

جواب

آن لائن کرنسی کے کاروبار میں عموماً  کرنسی کی خرید و فروخت ادھار ہوتی ہے ، بلکہ  بسا اوقات محض سودے ہوتے ہیں  اور کرنسی کے مارکیٹ انڈیکس کے فرق سے نفع بنالیا جاتا ہے، یا انٹرنیٹ پر سودے ہوتے رہتے ہیں اور اکاؤنٹ میں رقم باقی رہتی ہے اور دن کے آخر میں رقم میں نفع کا اضافہ یا نقصان کی کٹوتی کردی جاتی ہے،   اس لیے یہ ناجائز ہے، کیوں کہ کرنسی کی ٹریڈنگ شرعاً "بیعِ صرف" کہلاتی ہے، جس  میں بدلین (جانبین کی کرنسی) پر مجلسِ عقد میں قبضہ ضروری  ہے اور  دونوں جانب سے ، یا کسی ایک جانب سے ادھار  ناجائز وحرام ہے۔

 

 بخاری شریف میں ہے:

"سليمان بن أبي مسلم قال: سألت أبا المنهال عن الصرف يدا بيد فقال: اشتريت أنا وشريك لي شيئًا يدًا بيد ونسيئة فجاءنا البراء بن عازب فسألناه فقال: فعلت أنا وشريكي زيد بن أرقم وسألنا النبي صلى الله عليه و سلم عن ذلك فقال:  ما كان يدًا بيد فخذوه وما كان نسيئة فذروه."

(أخرجه البخاري في باب الاشتراك في الذهب والفضة وما يكون فيه الصرف (2/ 884) برقم (2365)،ط. دار ابن كثير، اليمامةبيروت، الطبعة الثالثة ، 1407 = 1987)

 بذل المجھود میں ہے:

"قلت:  جمعت السنة بين الذهب والفضة وبين غيرهما من الأموال الربوية، كالبر والشعير والتمر والملح إذا كانت مختلفي الجنس ومختلفي النوع؛ بأن بيعها يجوز بالتفاضل، ولا يجوز إذا كان نسيئة، وهذان الأمران اتفقت عليهما الأمة.

(بذل المجهود شر سنن ابي داود: باب في الصرف (11/ 41)،ط. مركز الشيخ أبي الحسن الندوي للبحوث والدراسات الإسلامية، الهند، الطبعة: الأولى، 1427 هـ- 2006 م)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"(وأما شرائطه) فمنها قبض البدلين قبل الافتراق."

(كتاب الصرف، الباب الأول في تعريف الصرف وركنه وحكمه وشرائطه (3/ 217)،ط. رشيديه)

فقط، واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144207200089

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں