بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو الحجة 1445ھ 20 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

کریڈٹ کارڈ بنوانا ناجائز ہے


سوال

موبائل فون قسطوں پر خریدنا چاہتا ہوں اس کے لیے مجھے کریڈٹ کارڈ کی ضرورت ہے، اور میں موبائل آن لائن ویب سائٹ پر خرید رہا ہوں، وہ ویب سائٹ مجھے ایک بینک کے تعاون سےچھ مہینوں کی قسطوں پر تقریبا 8 پرسنٹ سروس چارجز لے رہی ہے، کیا اس مقصد کے لیے میرا کریڈٹ کارڈ بنانا جائز ہے، اور  بینک کو یہ سروس چارجز دینا بھی جائز ہے ؟ اور مجھے یہ امید بھی ہے کہ میں بینک کو ماہانہ قسط مقررہ تاریخ سے پہلے ادا کروں گا تاکہ وہ مجھ سے سود نہ لےسکے۔

جواب

کسی معاملے کے حلال وحرام ہونے کا مدار درحقیقت وہ معاہدہ ہوتا ہے جو فریقین کے درمیان طے پاتا ہے، کریڈٹ کارڈ لینے والا کریڈٹ کارڈ جاری کرنے والے اداروں کے ساتھ معاہدہ کرتا ہے کہ اگر مقررہ مدت میں لی جانے والی رقم واپس نہ کر سکا تو ایک متعین شرح کے ساتھ  سود ادا کرے گا،جس طرح سود کا لینا حرام ہے اسی طرح اس کا معاہدہ کرنا بھی شرعا ناجائز اور حرام ہے،لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سائل کےلیے موبائل فون خریدنے کی خاطرکریڈٹ کارڈ بنواناشرعاًناجائز ہے ،اگربالفرض سائل ماہانہ قسط کی  رقم مقررہ مدت میں واپس بھی کردے تو معاہدہ کے سودی ہونے کی وجہ سے اصولی طور پر کریڈٹ کارڈ کا استعمال نا جائز ہے،لہٰذاسودی رقم لینےاورمعاہدہ کے سودی ہونے کی وجہ سے سائل کےلیےکریڈٹ کارڈ بنوانا ہی ناجائز ہے۔

سنن الترمذی میں ہے:

"عن ‌ابن مسعود قال: (لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم ‌آكل) ‌الربا ‌وموكله وشاهديه وكاتبه."

(‌‌أبواب البيوع، باب ما جاء في أكل الربا، ج:2، ص:496، ط: دار الغرب الإسلامي - بيروت)

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"وعن ‌عمر ‌بن ‌الخطاب رضي الله عنه إن آخر ما نزلت آية الربا وإن رسول الله صلى الله عليه وسلم قبض ولم يفسرها لنا فدعوا الربا والريبة."

(‌‌كتاب البيوع، باب الربا، ‌‌الفصل الثالث، ج:2، ص:860، ط: المكتب الإسلامي - بيروت)

السنن الکبیر للبھیقی میں ہے:

"عن كثير بن عبد الله المزنى، عن أبيه، عن جده قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-المسلمون ‌عند ‌شروطهم، إلا شرطاً حرم حلالاً أو شرطاً أحل حراماً."

(كتاب الصداق، باب الشروط في النكاح، 14/ 529، رقم الحديث:14545، ط: مركز هجرللبحوث والدراسات،القاهرة)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144411102134

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں