بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 جُمادى الأولى 1444ھ 29 نومبر 2022 ء

دارالافتاء

 

کرایہ کی دکان کے لیے دی گئی ایڈوانس رقم پر زکوۃ کا حکم


سوال

 ہمارے علاقے میں لوگ اپنی زمین کرایہ پر کسی کو دینے کے لیے دکان وغیرہ کے لیے "لنگئی" (پشتو زبان کا لفظ ہے) کہتے ہیں یعنی کرایہ دینے والے سے ایڈوانس میں کچھ رقم وصول کرلیتے ہیں جو دس لاکھ روپے تک بھی ہوسکتا ہے اور اس سے کم بھی ہوسکتا ہے، اور زمین کے مالک ان پیسوں سے اس دکان پر خرچہ کرلیتے ہیں، دکان تیار ہونے کے بعد کرایہ دار سے الگ سے کرایہ وصول کرتے ہیں، اور پیشگی جو رقم زمین کے مالک کے پاس ہوتی ہے وہ اسے اپنے پاس رکھتے ہیں، جب مدت ختم ہوجاتی ہے تو مالکان اس رقم کو واپس کردیتے ہیں، اب سوال یہ ہے کہ اس پیشگی دی جانے والی رقم پر جو زکوۃ واجب ہوگی اس کا ادا کرنا کس کے ذمہ ہے، کرایہ دار پر یا مالک مکان پر؟ برائے کرم رہنمائی فرمائیں۔

جواب

صورت مسئولہ میں کرایہ دار دکان کرایہ پر لیتے وقت مالک کو جو پیشگی / ایڈوانس رقم ادا کرتا ہے، اس رقم کی زکوۃ کرایہ دار کے ذمہ واجب ہے، دکان کے مالک پر نہیں۔

فتح القدیر میں ہے:

"الزكاة واجبة على ‌الحر ‌العاقل ‌البالغ المسلم إذا ملك نصابا ملكا تاما وحال عليه الحول."

(‌‌كتاب الزكاة: 2/ 112، ط: کوئٹه)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144310101360

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں