بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 ذو الحجة 1441ھ- 11 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

کراٹے میں ایک فریق انتقال کرجائے تو یہ بھی قتل ہے


سوال

ہم ورزش اورجہاد فی سبیل اللہ کی نیت سےکراٹے سیکھتے ہیں، ہمیں جو کچھ سکھایا جاتا ہے ہفتے میں ایک دن اس کی عملی تربیت کےلیےہماری مرضی سےہمیں آپس میں فائٹ کرائی جاتی ہے، اس کےعلاوہ حکومت کی طرف سے اندرون ملک اوربیرون ملک مقابلےبھی کرائےجاتےہیں تو اب سوال یہ ہےکہ اگراس فائٹ میں کوئی زخمی ہوجائے یا مرجائے تو اس کا کیا حکم ہے، کیا وہ قتل کے زمرے میں داخل ہوگا اور اس پر قتل کے احکام جاری ہوں گے یا نہیں؟

جواب

باہمی رضامندی سے کی جانے والی لڑائیوں میں اگر ایک فریق انتقال کرجائے تو یہ قتلِ خطا کے زمرے میں آئےگا اور مارنے والا گناہ گار بھی ہوگا اور اس پر دیت وکفارہ دونوں لازم ہوں گے، باقی اگر مقتول کے ورثاء دیت معاف کرنا چاہیں تو یہ ان کاحق ہے، لیکن کفارے کے دو ماہ کے مسلسل روزے پھر بھی لازم ہوں گے ۔فقط واللہ اعلم

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک ملاحظہ کیجیے:

باکسنگ کے کھیل کا حکم


فتوی نمبر : 144109202147

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں