بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

کرنسی بدل کر قرض میں کمی بیشی کاحکم


سوال

 میں نے کسی شخص سے دو لاکھ روپے  لئےکہ بعد میں پانچ مہینے بعد آپ کو دو لاکھ چالیس ہزار دوں گا، لیکن صورت اس طرح بنائی کہ ایک لاکھ پچاس ہزار پاکستانی  روپے لیے  اور پچاس ہزار کی ملائیشین کرنسی لی، تو اس صورت میں ربو(سود) کا کیا حكم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ قرض کے بارے میں شریعت کا اصول یہ ہے کہ جتنا قرض لیاجائے اور جس کرنسی میں لیا جائے اتناہی  اور وہی کرنسی واپس کی جائے ،قرض کی واپسی میں   اضافے کی شرط لگانا جائز  نہیں ہے ، البتہ  اگرقرض لینے والا از خود کچھ مقدار زیادہ واپس کردے  تو اس کی اجازت ہے  ،لہذا صورت مسئولہ میں  قرض لینے والے کا دولاکھ روپے سے زیادہ واپسی کا مطالبہ کر نا  سود کے زمرے میں آئےگااور جوحیلہ  اختیار کیا گیاہے یہ بھی سود  ہی کے زمرےمیں آتاہے،اس وجہ سے  سائل کے ذمے لازم ہے کہ ایک لاکھ پچاس ہزار روپے پاکستانی اور پچاس ہزار ملائیشین کرنسی  واپس کردے،البتہ اگر واپسی کے وقت باہمی رضامندی سے ملا ئیشین کرنسی کے بجائے اس کی موجودہ مالیت کے برابرپاکستانی روپے دیدے تو اس کی گنجائش ہے۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"ولو استقرض فلوسا نافقة، وقبضهاولم تكسد، ولكنها رخصت أو غلت فعليه رد مثل ما قبض بلا خلاف."

(كتاب البيوع،فصل واماحكم البيع،5/242،ط سعید)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144408100835

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں