بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 ربیع الاول 1444ھ 28 ستمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

کراچی میں چاند کی رؤیت گلگت کے لیے معتبر ہوگی یا نہیں؟


سوال

کیا کراچی  کی  رؤیت، گلگت  کے  لیے  معتبر  ہوگی؟

جواب

شرعی  اعتبار  سے  روزہ  رکھنے کا مدار  چاند  دیکھنے  پر  ہے، احادیثِ  مبارکہ  میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی بات  کی تلقین فرمائی ہے کہ  چاند دیکھ کر روزہ رکھا جائے اور چاند دیکھ کر ہی عید کی جائے،اور چاند کے مطالع طلوع ہونے کی جگہیں مختلف علاقوں میں الگ الگ ہوتے ہیں، لہذا یہ ممکن ہے کہ ایک علاقہ میں چاند نظر آجائے،جب کہ دیگرعلاقوں میں دکھائی نہ دے، اس مسئلہ کوفنی اعتبارسے ’’اختلافِ مطالع کے اعتبار یا عدمِ اعتبار کا مسئلہ‘‘   کہاجاتاہے۔ اس سلسلہ میں حنفیہ کے نزدیک راجح قول یہی ہے کہ قریبی ملکوں اورشہروں میں جوایک دوسرے سے ملے ہوئے ہوں اختلافِ  مطالع کااعتبارنہیں، بلکہ ایک مقام پرنظرآنے والاچاند دوسرے  قریبی شہروں اورپڑوسی ملک کے لیے بھی حجت ہے۔ البتہ اگرایک ملک دوسرے ملک سے کافی فاصلے پرواقع ہے، تواس صورت میں اختلافِ  مطالع کااعتبارہوگا، یعنی دوسرے ملک کے لیے الگ رؤیت کااعتبارہوگا۔ وہاں کے باشندوں کوچاہیے کہ چانددیکھ کررمضان اورعیدکریں۔

پھر  بلادِ  بعیدہ(جو ملک اور شہر ایک دوسرے سے دور ہیں ) کی تعیین میں اقوال مختلف ہیں، علامہ شامی نے لکھا ہے کہ: بعض فقہاء فرماتےہیں: ایک مہینہ کی مسافت پر مطلع بدل جاتا ہے، اور فقہاء کی تصریحات کے مطابق تین دن کا سفر ۴۸ میل بنتا ہے تو اس کے حساب سے چارسو اسی میل کی مسافت پر مطلع تبدیل ہوگا۔ دوسرا قول یہ لکھا ہے کہ: چوبیس فرسخ پر مطلع بدل جائے گا۔ اور معارف السنن میں حضرت بنوری رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ ہر پانچ سو میل کی مسافت پر مطلع بدل جاتا ہے۔(معارف السنن ، ج: ۵، ص: ۳۳۷)

نیز    جب کسی ملک میں رویتِ ہلال کمیٹی مقرر ہو، جس کو سرکاری طور پر چاند ہونے یا نہ ہونے کے فیصلے کا اختیار ہو تو شرعی اعتبار سے اسی کمیٹی کا فیصلہ معتبر ہوتا ہے، جب یہ کمیٹی  شرعی شہادت  موصول ہونے پر  چاند نظر آنے کا اعلان کردے تو اس کے فیصلے پر اپنی حدود اور ولایت میں  ان لوگوں پرجن تک فیصلہ اور اعلان یقینی اور معتبر ذریعے سے پہنچ جائے  عمل  کرنا واجب ہوگا،  لہذ ا گلگت کا علاقہ چوں کہ ملک پاکستا ن کا حصہ ہے ،اگر کراچی  شہر میں چاند کی رؤیت ہو یا ملک ِ پاکستان کے کسی اور شہر میں چاند  کی رؤیت ہو اور مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی کی طرف سے سے چاند کے نظر آنے کا فیصلہ کردیا جائے تو گلگت والوں پر بھی اس  فیصلہ پر عمل کرنا ضروری ہوگا ،اسی طرح اگر گلگت کے علاقہ میں  چاند نظر آجائے تو  وہاں کے لوگ کمیٹی یا اس کے نمائندے کے سامنے شرعی شہادت پیش کریں،اور مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی کے فیصلے کی پابندی کریں۔ نیز یہ مسئلہ بھی پیشِ نظر رہے کہ اگر کسی شخص نے خود چاند دیکھا ہو اور اس کی گواہی بھی دی ہو، لیکن کسی بنا پر اس کی گوہی قبول نہ کی گئی ہو تو اپنی ذات کی حد تک وہ شخص احتیاط کا دامن تھامتے ہوئے عمل کرے گا، چنانچہ اگر رمضان کا چاند ہو تو وہ خود روزہ رکھے گا اگرچہ کمیٹی کی طرف سے اعلان نہ ہوا ہو، البتہ عید کے چاند کی صورت میں وہ احتیاط پر عمل کرتے ہوئے روزہ رکھے اور تمام لوگوں کے ساتھ ہی عید کرے۔

وفي الدر المختار وحاشية ابن عابدين:

(واختلاف المطالع) ورؤيته نهارا قبل الزوال وبعده (غير معتبر على) ظاهر (المذهب) وعليه أكثر المشايخ وعليه الفتوى بحر عن الخلاصة(فيلزم أهل المشرق برؤية أهل المغرب) إذا ثبت عندهم رؤية أولئك بطريق موجب كما مر، وقال الزيلعي: الأشبه أنه يعتبر لكن قال الكمال: الأخذ بظاهر الرواية أحوط.

 (قوله: واختلاف المطالع) جمع مطلع بكسر اللام موضع الطلوع بحر عن ضياء الحلوم (قوله: ورؤيته نهارا إلخ) مرفوع عطفا على اختلاف ومعنى عدم اعتبارها أنه لا يثبت بها حكم من وجوب صوم أو فطر فلذا قال في الخانية فلا يصام له ولا يفطر وأعاده وإن علم مما قبله ليفيد أن قوله لليلة الآتية لم يثبت بهذه الرؤية بل ثبت ضرورة إكمال العدة كما قررناه فافهم (قوله: على ظاهر المذهب) اعلم أن نفس اختلاف المطالع لا نزاع فيه ...وإنما الخلاف في اعتبار اختلاف المطالع بمعنى أنه هل يجب على كل قوم اعتبار مطلعهم، ولا يلزم أحد العمل بمطلع غيره أم لا يعتبر اختلافها بل يجب العمل بالأسبق رؤية حتى لو رئي في المشرق ليلة الجمعة، وفي المغرب ليلة السبت وجب على أهل المغرب العمل بما رآه أهل المشرق، فقيل بالأول واعتمده الزيلعي وصاحب الفيض، وهو الصحيح عند الشافعية؛ لأن كل قوم مخاطبون بما عندهم كما في أوقات الصلاة، وأيده في الدرر بما مر من عدم وجوب العشاء والوتر على فاقد وقتهما وظاهر الرواية الثاني وهو المعتمد عندنا وعند المالكية والحنابلة لتعلق الخطاب عملا بمطلق الرؤية في حديث «صوموا لرؤيته» بخلاف أوقات الصلوات، وتمام تقريره في رسالتنا المذكورة. (رد المحتار2/ 393ط:سعيد)

وفي بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع :

 هذا إذا كانت المسافة بين البلدين قريبة لا تختلف فيها المطالع، فأما إذا كانت بعيدة فلا يلزم أحد البلدين حكم الآخر لأن مطالع البلاد عند المسافة الفاحشة تختلف فيعتبر في أهل كل بلد مطالع بلدهم دون البلد الآخر.(2/ 83الناشر: دار الكتب العلمية)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144209200622

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں