بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 جمادى الاخرى 1443ھ 29 جنوری 2022 ء

دارالافتاء

 

کراچی میں ولی کی اجازت سے نماز جنازہ کی ادائیگی کی صورت میں ولی کا ’کرک‘ میں دوبارہ نماز جنازہ پڑھنے کا حکم


سوال

ایک شخص کرک  کا هے اس کا کراچی میں انتقال ہو گیا،  وہاں (کراچی میں )   اس  کی نماز ِ  جنازہ  ولی  کی اجازت سے ادا کی گئی،  لیکن ولی خود شامل نهیں هوا، اب کرک میں اس کی  نمازِ  جنازه دوبارہ پڑھنا درست هے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ شرعی حکم یہ ہے کہ جس علاقے میں  کسی شخص کی  وفات ہو  اسی جگہ تدفین کی  جائے، کسی  اور  جگہ جو دو تین میل دور ہو،بلا ضرورتِ  شرعی میت کومنتقل کرنا مکروہ ہے؛ لہذا جب مذکورہ شخص کا انتقال کراچی میں ہواہے تونماز جنازہ وتدفین  یہیں کرنی چاہیے،تاہم اگرمیت کومنتقل کرتے ہیں تو اس صورت میں اگرکراچی میں جنازے کی نماز اداکردی گئی یعنی میت کے ولی(مثلًاوالد ،بیٹاوغیرہ کسی  )   نے نمازجنازہ پڑھ لی یاان  کی اجازت سے نمازِجنازہ اداکردی گئی تواب دوبارہ ’کرک‘میں نمازِ جنازہ پڑھنا جائزنہیں ہے، یہی احناف کاقول ہے۔ ولی کو نمازِ  جنازہ کے اعادہ کا حق صرف اس وقت حاصل ہوتا ہے  جب اس کی اجازت کے بغیر نماز جنازہ ادا کردی گئی ہو ، اور اس کے برابر درجے کا کوئی ولی یا اس سے زیادہ قریب ولی نمازِ جنازہ نہ پڑھ چکا ہو، اور اس صورت میں بھی جولوگ پہلے نمازجنازہ پڑھ چکے ہوں ان کے  لیے ولی کے ساتھ دوبارہ پڑھناجائزنہیں ہوتا۔

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"و لو صلّى علیه الولي، و للمیت أولیاء أخر بمنزلته، لیس لهم أن یعیدوا، کذا في الجوهرة النیرة."

(الفتاویٰ الهندیة، کتاب الصلاة، الباب الحادي و العشرون في الجنائز، الفصل الخامس في الصلاة على المیت، (1/164) ط: رشیدیه کوئٹه)

وفي الدر المختار:

"فإن صلی غیره أي غیر الولي ممن لیس له حق التقدم علی الولي و لم یتابعه الولي أعاد الولي ولو علی قبره".

(الدرالمختار ، باب صلاة الجنائز، ۲/۲۲۲ ط سعید)

وفي مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح:

"ولمن له حق التقدم أن يأذن لغيره فإن صلى غيره أعادها إن شاء ولا يعيد معه من صلى مع غيره.

ولمن له حتى التقدم أن يأذن لغيره" لأن له إبطال حقه وإن تعدد فللثاني المنع والذي يقدمه الأكبر أولى من الذي يقدمه الأصغر "فإن صلى غيره" أي غير من له حق التقدم بلا إذن ولم يقتد به "أعادها" هو "إن شاء" لعدم سقوط حقه وإن تأدى الفرض بها "ولا" يعيد "معه" أي مع من له حق التقدم "من صلى مع غيره" لأن التنفل بها غير مشروع كما لا يصلي أحد عليها بعده وإن صلى وحده." (ص: 220الناشر: المكتبة العصرية)

وفي حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح:

"أما إذا أذن له أو لم يأذن ولكن صلى خلفه فليس له أن يعيد لأنه سقط حقه بالأذن أو بالصلاة مرة وهي لا تتكرر ولو صلى عليه الولي وللميت أولياء آخرون بمنزلته ليس لهم أن يعيدوا لأن ولاية الذي صلى متكاملة."

 (ص: 591الناشر: دار الكتب العلمية بيروت - لبنان)

 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144208200522

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں