بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 رجب 1444ھ 28 جنوری 2023 ء

دارالافتاء

 

کپڑوں پر ناپاکی لگ جائے تو کس طرح پاک کیا جائے؟


سوال

آج کے دن میری ہوا خارج ہوئی تھی ،اس کے ساتھ  تھوڑا سی نجاست (گندگی ) بھی نکل گئی تھی ،اب چوں کہ میں آفس میں تھا اور میرے لیے دوسری شلوار ارینج کرنا ممکن نہیں تھا تو میں نے اپنی شلوار کو جہاں جہاں پر گندگی لگی تھی ، اس کو رومال گیلا کرکے صاف کرلیا اور پانی بہادیا ، اس کے بعد اپنے جسم کو دھو کر نماز ادا کر لی ،کیا میرے ایسا کرنے سے کپڑے پاک ہوگئے ؟یا نمازیں دوبارہ لوٹانی  ہوں گی ؟

جواب

واضح  رہے کہ اگر کپڑوں پر نجاست لگ جائے تو  انہیں  پاک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ جس جگہ نجاست لگی ہو  اس جگہ کو تین مرتبہ اس طور پر دھو لیا جائے کہ ہر مرتبہ پانی ڈالنے کے بعد اچھی طرح نچوڑ لیا جائے،  اس طرح تین مرتبہ کر لینے سے کپڑے پاک ہو جائیں گے۔البتہ  اگر ناپاک کپڑے کو تالاب یا  بہتے پانی میں  اچھی  طرح دھویا جائے، اور اس پر خوب پانی بہایا جائے کہ نجاست کا اثر دور ہوجائے تو  وہ کپڑا پاک ہوجاتا ہے، اگر  چہ اسے تین مرتبہ نچوڑا نہ  گیا ہو۔ 

لہذا صورتِ مسئولہ  میں اگر سائل نے مذکورہ طریقہ پر اپنے کپڑے کو تین مرتبہ دھولیا تھا اور ہر مرتبہ دھونے کے ساتھ  کپڑے کو اچھی طرح نچوڑ بھی لیا تھا یا سائل نے ایک ہی مرتبہ میں اچھی طرح پانی زیادہ بہا کرکپڑوں کو  صاف کرلیا تھا اور نجاست  (گندگی ) کے اثرات بالکل ختم ہوگئے تھے تو اس طرح  دھونے سے  سائل کے کپڑے پاک ہوگئے تھے، لیکن اگر سائل نے مذکورہ طریقہ پر اپنے کپڑوں کونہیں دھویا تھا  تو اس صورت میں کپڑے پاک نہیں ہوئے تھے، پھر اگر  یہ نجاست ایک درہم کی مقدار  سے زیادہ ہو تو سائل نے ان کپڑوں میں جتنی نمازیں ادا کیں ہیں ،ان سب کی قضا کرنا ضروری ہے ۔

وفي حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح:

"و" يطهر محل النجاسة "غير المرئية بغسلها ثلاثاً" وجوباً، وسبعاً مع الترتيب ندباً في نجاسة الكلب خروجاً من الخلاف، "والعصر كل مرة" تقديراً لغلبة.

یعني اشتراط الغسل والعصر ثلاثاً إنما هو إذا غمسه في إجانة، أما إذا غمسه في ماء جار حتى جرى عليه الماء أو صب عليه ماءً كثيراً بحيث يخرج ما أصابه من الماء ويخلفه غيره ثلاثاً فقد طهر مطلقاً بلا اشتراط عصر وتجفيف وتكرار غمس، هو المختار، والمعتبر فيه غلبة الظن، هو الصحيح، كما في السراج، ولا فرق في ذلك بين بساط وغيره، وقولهم يوضع البساط في الماء الجاري ليلةً إنما هو لقطع الوسوسة''۔ (ص: 161)

وفي الدر المختار وحاشية ابن عابدين:

'' (و) يطهر محل (غيرها) أي: غير مرئية (بغلبة ظن غاسل) لو مكلفاً وإلا فمستعمل (طهارة محلها) بلا عدد، به يفتى. (وقدر) ذلك لموسوس (بغسل وعصر ثلاثاً) أو سبعاً (فيما ينعصر) مبالغاً بحيث لايقطر ... وهذا كله إذا غسل في إجانة، أما لو غسل في غدير أو صب عليه ماء كثير، أو جرى عليه الماء طهر مطلقاً بلا شرط عصر وتجفيف وتكرار غمس، هو المختار. (رد المحتار 1/ 331ط:سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144207201144

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں