بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 20 جنوری 2021 ء

دارالافتاء

 

زکاۃ ادا کرتے ہوئے کسی چیز کی قیمتِ فروخت کا مطلب


سوال

اپنے پاس رکھے ہوئے کپڑے جوکہ استعمال نہ ہوئے ہوں، ان کو زکاۃ میں دیتے ہوئے قیمتِ فروخت کیسے معلوم کی جائے؟ کیا یہ دیکھنا کافی ہے کہ وہ اب اسی دکان پر کتنے کا مل رہا ہے؟ ورنہ عام طور پر اس کپڑے کی قیمت لگوانا تو مشکل ہے، البتہ یہ بات آسانی سے پتا کی جاسکتی ہے کہ اس جیسا کپڑا کتنے کا مل رہاہے؟ تو ہم کیا اس قیمت کو قیمتِ فروخت مان سکتے بیں؟

جواب

اگر اس کپڑے کو فروخت کرنے جائیں تو جس قیمت پر وہ فروخت ہو، وہی اس کی قیمت ہوگی، اور اسے کے حساب سے اسے زکوٰۃ میں دینا جائز ہوگا۔ اور ظاہر ہے کہ خریدا ہوا کپڑا یا گھر میں رکھا ہوا اَن سِلا جوڑا اس قیمت پر نہیں بکتا جو بازار میں نئے کپڑے کی قیمت ہوتی ہے، لہٰذا بازار میں ایسا نیا کپڑا جس قیمت پر مل رہاہو، وہ قیمت یہاں مراد نہیں ہوگی، بلکہ کسی ذی رائے/ تجربہ کار شخص سے اس کپڑے کے بارے میں اندازا لگوالیا جائے کہ یہ کپڑا کتنے میں خریدا جاسکتاہے، وہ قیمت معتبر ہوگی۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144112200523

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں