بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 محرم 1446ھ 13 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

کپڑا وغیرہ سے استنجا کرنا


سوال

بالفرض اگرکسی ایسی جگہ پر جانا ہو کہ وہاں استنجا  حاصل کرنے کے لیے کوئی چیز میسر نہ ہو تو ایسی صورت میں کپڑے کے ایک طرف سے یا پھر رومال  وغیرہ سے استنجا  کرلیا گیا ،تو ایسی صورت میں کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ ٹشو پیپر  یا کسی معمولی بے قیمت کپڑے کے ٹکڑے سے استنجا کرنا بلا کراہت جائز ہے، البتہ کسی قیمتی کپڑے (یعنی عموماً جیساکہ کپڑا ہوتاہے)یا قابل احترام چیزسے استنجا کرنا مکروہ ہے۔

صورتِ  مسئولہ میں اگر واقعتاً کوئی ایسی صورت پیش آئی ہوکہ   استعمال کےکپڑے یارومال  کے ایک طرف سے  استنجا  کرنے کا عذر تھا،  اور کوئی بھی دوسری چیز استنجا کےلیے مہیا نہ تھی،تو مذکورہ اشیاءسے  استنجا کرنا جائز ہے، اور  نجاست موضعِ استنجا  کے علاوہ ایک درہم کی مقدار سے   زیادہ نہیں تھی تو  پاکی حاصل ہوجا ئےگی۔

البنایہ شرح الہدایہ میں ہے:

"(ويجوز فيه الحجر) ش: أي ‌يجوز ‌في ‌الاستنجاء استعمال الحجر م: (وما قام مقامه) ش: أي ويجوز أيضاً بما قام مقام الحجر كالمدر والتراب والعود والخرقة والقطن والجلد ونحو ذلك."

(كتاب الطهارات، فصل في الاستنجاء، ما يجوز به الاستنجاء به وما لا يجوز، ج:1 ص:749 ط: دار الکتب العلمیة)

فتاوی شامی میں ہے:

"ينبغي تقييد الكراهة فيما له قيمة بما إذا أدى إلى إتلافه، أما لو استنجى به من بول أو مني مثلا وكان يغسل بعده فلا كراهة إلا إذا كان شيئا ثمينا تنقص قيمته بغسله كما يفعل في زماننا بخرقة المني ليلة العرس تأمل."

(كتاب الطهارة، باب الأنجاس، فصل في الاستنجاء، ج:1 ص:340 ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144504101749

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں