بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ذو الحجة 1442ھ 04 اگست 2021 ء

دارالافتاء

 

کامیاب نوجوان قرضہ اسکیم کا حکم


سوال

وزیر اعظم کی کامیاب جوان قرضہ سکیم کے لیے اپلائی کرچُکا  ہوں اور  قیمت بھی وصول ہونے والی ہے، لیکن جب معلوم ہوا کہ اس میں سود ہے،تو بہت  ڈر بھی رہا ہوں ،  کیا میں یہ رقم کسی کو دے کر اُن سے حلال قرض لے سکتا ہوں؟ کامیاب جوان قرض کی قسط بھی وہی ادا کرے گا جس سے حلال قرض لوں گا ۔میرے لیے کیا حکم ہے؟  راہنمائی فرمائیے !

جواب

صورتِ  مسئولہ  میں  اگر سائل نے مذکورہ قرضہ وصول نہیں کیا ہے، تو ایسی صورت میں اس کے  لیے سودی قرضہ لینا جائز نہ ہوگا، البتہ اگر وہ وصول کرچکا ہے، تو اس صورت میں جلد از جلد اس کو  چکا کر سودی قرضہ سے نجات حاصل کرنا ضروری ہوگا، ساتھ  ساتھ توبہ و استغفار بھی لازم ہوگا، تاہم مذکورہ قرضہ کسی اور کو منتقل کرنے کی اجازت نہ ہوگی۔  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144209200286

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں