بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شوال 1445ھ 13 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

کامیاب نوجوان پروگرام کے تحت قرضہ لینا


سوال

حکومت کی جانب سے ایک پروگرام کیا گیا ہے، جس کا نام "کامیاب نوجوان" ہے،  نوجوانوں کو  2.5  لاکھ سے 2.5 کڑروڑ تک قرضہ دیا جاۓ گا۔ سوال یہ ہے کہ اب لون لینے والے کو 100 میں سے 5% منافع دینا پڑے گا،  کیا یہ سود کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں؟  کیا اسے لینا  جائز ہے یا ناجائز ہے؟

جواب

سوال  میں  ذکر  کردہ بیان اور دیگر ذرائع کے مطابق ’’وزیر اعظم کا کامیاب نوجوان‘‘ کے  عنوان سے جو اسکیم شروع ہوئی وہ  سودی معاملے پر مشتمل ہے؛ اور  جو  قرض کے بدلے  5٪ نفع دینا ہوگا،  وہ درحقیقت سود ہی ہے ؛ اس لیے اس اسکیم کے تحت قرضہ لینا شرعاً ناجائز  اور حرام ہے۔

 ارشاد باری تعالی ہے :

﴿فَإِن لَّمْ تَفْعَلُواْ فَأْذَنُواْ بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُولِه﴾ (البقرة:278)

ترجمہ:” اگر تم سودی کاروبار سے باز نہیں آؤ گے تو اللہ  تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلان جنگ سن لو۔“

اسی طرح بہت سی احادیثِ مبارکہ میں آپ صلی اللہ  علیہ وسلم نے سود کی قباحت بیان فرمائی ہے، ان میں سے چند احادیث مندرجہ ذیل ہیں:

"عن جابر بن عبدالله رضی الله تعالیٰ عنه قال: لعن رسول الله صلی الله علیه وسلم آکل الرّبا وموکله وکاتبه وشاهدیه، وقال: هم سواء“.  (رواه مسلم) 

(البیوع، باب لعن آکل الرّبا وموکله، ص:297، رقم الحدیث:1598، ط: دارالسلام)

ترجمہ:”حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ  علیہ وسلم نے سود کھانے اور سود دینے اور سودی حسابات یا تحریر لکھنے والے اور سودی لین دین پر گواہ بننے والوں پر لعنت فرمائی ہے، اور فرمایا کہ یہ سب لوگ گناہ میں برابر ہیں۔“

"عن أنس بن مالك رضي الله تعالیٰ عنه قال: ”خطبنا رسول الله صلی الله علیه وسلم فذکر أمر الرّبا وعظَّم شانه وقال: إن الدّرهم یصیبه الرّجل من الرّبا أعظم عندالله الخطیئة من ستّة وثلاثین زنیةً یزنیها الرّجل، وإن أربی الرّبا عرض الرّجل المسلم“.

( الزواجر، الکبیرة الرابعة والثمانون بعد المائة، أکل الربا وإطعامه الخ:378/1،ط:دارالفکر)

ترجمہ:” حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ  علیہ وسلم نے ہم سے خطاب فرمایا اور سود کا خاص تاکید او راہتمام سے ذکرکرتے ہوئے فرمایا:  ایک سودی درہم حاصل کرنا اللہ  کی نظر میں چھتیس (36) مرتبہ زنا کرنے سے زیادہ سخت گناہ ہے۔  اور فرمایا: سب سے بڑا سود یہ ہے  کہ مسلمان کی آبرو پر حملہ کیا جائے۔“  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 200021

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں