بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1446ھ 15 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

کمرے میں باتھ روم بنانے کا حکم


سوال

کیا نماز کے کمرے میں اٹیچ باتھ روم بنانا جائز ہے؟

جواب

واضح رہے کہ اگر گھر میں وسعت ہو اور بیت الخلا  کمرے سے باہر بنایا جاسکتا ہو  تو بہتر یہ ہے کہ بیت الخلا  کمرے سے ذرا   دور  بنایا جائے، لیکن   اگر کمرے  کے ساتھ  بیت  الخلا  بنانے کی ضرورت ہو تو    کمرے  سے متصل بیت الخلا  بنانا بھی  جائز ہے،  البتہ نجاست سے پاکی کا اہتمام ضروری ہے؛ تاکہ گھر میں ناپاکی نہ ہو، اسی طرح بیت الخلا  کی چار دیواری کا  الگ سے مستقل  دروازہ وغیرہ بھی لگایا جائے، داخل ہونے  اور باہر نکلنے کی دعاؤں کا بھی اہتمام کیا جائے۔  تاکہ  نجاست ، بو  اور  شیطانی اثرات سے  گھر  محفوظ  رہے۔

شرح النووي على مسلم میں ہے :

"و أما فقه هذه الأحاديث ففيها استحباب التباعد لقضاء الحاجة عن الناس و الاستتار عن أعين الناظرين."

 (کتاب الطھارۃ ، باب الاستطابۃ،3 / 163، دار احیاء التراث  العربی )

بذل المجهود في حل سنن أبي داود میں ہے :

"عن جَابِرِ بْنِ عَبْدِ الله  قال: "إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا أَرَادَ الْبَرَازَ انْطَلَقَ حَتَّى لاَيَرَاهُ أَحَدٌ."

(قال) أي جابر: (إن النبي صلى الله عليه وسلم كان إذا أراد البَراز) بالفتح اسم لفضاء  واسع، و خَطَّأ الخطابي الكسرة؛ لأنه مبارزة في الحرب، و قال الجوهري بخلافه فجعله مشتركًا بينهما، و قال الفيروزآبادي: و كسحاب اسمٌ، و ككتاب: الغائط، و معنى الحديث أنه صلى الله عليه وسلم إذا أراد قضاء الحاجة (انطلق) في الصحراء وتَبعَّدَ عن الناس (حتى لايراه أحد)  منهم، و هذا إذا كان صلى الله عليه وسلم في السفر وفي الصحراء و قبل بناء الكُنُف في البيوت، و أما إذا كان في العمران فثبت أنه صلى الله عليه وسلم كان يقضي حاجته في البيت كما رواه ابن عمر، ويأتي في الرخصة في استقبال القبلة."

 (کتاب الطھارۃ ، باب التخلی عند قضاء الحاجۃ،1 / 168،مركز الشيخ أبي الحسن الندوي للبحوث والدراسات الإسلامية، الهند)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144507101229

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں